
برٹش ایئر ویز کی ناڈیا نے کراس یعنی صلیب کی نیکلیس اتارنے سے منع کر دیا تھا
برطانیہ میں عیسائی عقیدہ رکھنے والے ان چار افراد نے یورپ کی انسانی حقوق کی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے جن کا دعوی ہے کہ ان کے مذہبی عقیدے کی وجہ سے انہیں ملازمت سے برطرف کیا گيا تھا۔
چاروں افراد اپنا مقدمہ برطانیہ کی عدالتوں سے ہار چکے ہیں اس لیے یورپ کی انسانی حقوق کی عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان چار افراد میں سے برٹش ایئرویز میں کام کرنے والی ایک خاتون نادیہ ایویڈیا ہیں جو اپنے گلے میں صلیب کے نشان والا ہار پہنا کرتی تھیں۔
جنوبی لندن کی عیسائی عقیدہ رکھنے والی نادیہ نے صلیب والا ہار اتارنے سے انکار کر دیا تھا جس کے سبب برٹش ایر ویز انہیں دو ہزار چھ میں نوکری سے برخواست کر دیا تھا۔
محترمہ چیپلن بطور نرس ایک ہسپتال میں کام کرتی تھیں اور انہوں نے بھی صلیب والا ہار اتارنے سے انکار کیا تھا جنہیں ہسپتال نے نرس کے بجائے ڈیسک کے جاب پر تبادلہ کر دیا تھا۔
نفسیاتی امور کی کاؤنسلنگ کرنے والے کاؤنسلر نے اپنے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر ایک ہم جنس جوڑے کو رشتوں سے متعلق مشورہ دینے سے انکار کیا تھا۔ انہیں بھی کمپنی نے فارغ کر دیا تھا۔
"اس کیس میں سب اہم سوال یہی ہے کہ کیا ان چاروں افراد کو ان کی جگہوں پر دوسروں کے حقوق کو بغیر کوئی نقصان پہنچائے انہیں برقرار رکھا جا سکتا تھا اور ان کاعیسائی عقیدہ بھی متاثر نا ہوتا، اور اس کا جواب واضح طور ہاں ہے۔"
ایک اور خاتون محترمہ لیڈلی نے ہم جنسوں کے لیے تقاریب منعقد کرنے سے انکار کیا تھا جس کی بنیاد پر انہیں بھی کمپنی نے نکال دیا تھا۔
برطانیہ میں ’ایکولٹی اینڈ ہیومن رائٹس کمیشن‘ ان افراد کے مقدمات کی حمایت کرتا رہا ہے اور اس نے عدالتوں کے فیصلوں پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی تھی کہ ججز نے مساوات کے قانون کی تشریح تنگ نظری سے کی ہے۔
عیسائیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ’ کرسچن کنسرن‘ کے اینڈریو مارش کا کہنا ہے کہ ان چاروں افراد کو ان کا عقیدہ رکھتے ہوئے بھی انہیں کام کرنے دیا جا سکتا تھا۔
انہوں نے بی بی سی کو بتایا ’اس کیس میں سب اہم سوال یہی ہے کہ کیا ان چاروں افراد کی نوکری دوسروں کے حقوق کو بغیر کوئی نقصان پہنچائے برقرار رکھی جا سکتی تھی کہ ان کا عیسائی عقیدہ بھی متاثر نہ ہوتا، اور اس کا جواب واضح طور ہاں ہے۔‘
لیکن اس کے بر عکس ’نیشنل سیکولر سوسائٹی‘ جو مذہبی مراعات کے خلاف مہم چلاتی ہے، کے خیال میں اگر یورپی یونین کی عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ کیا تو اس سے برطانیہ کے برابری کے قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔






























