
پولیس کے مطابق مسیحی بچی کو توہین مذہب کی دفعہ دوسو پچانوے بی کے تحت گرفتار کیا گیا ہے
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے ایک بارہ سالہ مسیحی بچی کو توہین مذہب کے قانون کے تحت مقدمہ درج کر کےگرفتار کیا ہے۔
رمشاء نامی مسیحی بچی پر الزام ہے کہ اس نے قرآنی قاعدے کی بحرمتی کرنے کے بعد اس کو نذر آتش کیا۔
اسلام آباد میں رمنا پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او قاسم نیازی نے بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رمشاء مسیح کو جمعے کو گرفتار کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس بچی کو اسی روز چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ میں نابالغوں کے جیل میں منتقل کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس مسیحی بچی کو توہین مذہب کی دفعہ دوسو پچانوے بی کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
اس دفعہ کے مطابق کوئی بھی شخص جان بوجھ کر قرآن یا اس کے کسی حصے کی بحرمتی کرے، نقصان پہنچائے یا توہین آمیز طریقے سے استعمال کرے اس کے لیے عمر قید کی سزا مقرر ہے۔
پولیس کا کہنا ہے اس بچی کا تعلق اسلام آباد کے ایک گاؤں مہر آبادی سے ہے۔
پولیس کے مطابق اس بچی کو ایک مقامی نوجوان کی شکایت پرگرفتار کیا گیا۔
دوسری جانب کرسچن ان پاکستان نامی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اس بچی پر قرآن کے اوراق نذر آتش کرنے کا جھوٹا الزام عائد گیا ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق وہ ڈون سنڈروم میں مبتلا ہے۔ ڈون سنڈروم ایک ایسی بیماری ہے جس میں بچہ ذہنی طور پر کمزور ہوتا ہے۔
پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق تیس لاکھ عیسائی باشندے آباد ہیں۔
پاکستان میں نہ صرف غیر مسلم بلکہ مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان بھی توہین رسالت کے قانون کی زد میں آتے رہے ہیں۔
اس قانون کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھانے پر پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر اور سابق وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کو بھی قتل کیا جا چکا ہے۔






























