اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ننکانہ میں توہین رسالت کے جرم میں سزا موت پانے والی مسیحی خاتون نے اپنی سزا کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔
سزائے موت پانے والی غیر مسلم خاتون آسیہ بی بی کی طرف سے اپیل ان کے وکیل ایس کے چودھری نے دائر کی ہے جس میں سزا کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
اس اپیل کی سماعت لاہور ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ کرے گا۔
آسیہ بی بی نے اپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ مقامی عدالت نے توہین رسالت کے جرم میں سزا سناتے وقت حقائق کو نظر انداز کیا اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے انہیں سزا سنا دی ہے جو قانون کی نظر میں قابل پذیرائی نہیں ہے۔
لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ ننکانہ کی مقامی عدالت نے عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے الزام میں موت اور ایک لاکھ جرمانے کی سزائیں سنائی ہیں اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں عدالتی فیصلے کے تحت انہیں چھ ماہ قید کاٹنا ہوگی ۔
استغاثہ کی طرف سے جو شہادتیں پیش کی گئیں، عدالت نے ان سے غلط تاثر لیا ہے اور اگر عدالت استغاثہ کی شہادتوں کا درست تناظر میں جائزہ لیتی ہے تو عدالت میں پیش کیے گئی شہادتیں قابل پیش رفت نہیں تھیں ۔
وکیلِ صفائی
یہ پہلا موقع ہے جب کسی غیر مسلم خاتون کو توہین رسالت کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ آسیہ بی بی اس وقت ضلع شیخوپورہ کی جیل میں قید ہیں۔
اپیل میں یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا ہے کہ استغاثہ خاتون اپیل کنندہ کے خلاف الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا اور عدالت کے سامنے استغاثہ کی طرف سے جو شہادتیں پیش کی گئیں ہیں ان میں تضاد تھا لیکن عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ان تضادات پر توجہ نہیں دی ۔
آسیہ بی بی کے وکیل کا کہنا ہے کہ استغاثہ کی طرف سے جو شہادتیں پیش کی گئیں، عدالت نے ان سے غلط تاثر لیا ہے اور اگر عدالت استغاثہ کی شہادتوں کا درست تناظر میں جائزہ لیتی ہے تو عدالت میں پیش کیے گئی شہادتیں قابل پیش رفت نہیں تھیں ۔
اپیل میں یہ بھی کہا گیا کہ آسیہ بی بی کے خلاف کوئی ایسا ٹھوس ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جس کی بناء پر انہیں سزائے موت جیسی کڑی سزا دی جاتی۔ اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ آسیہ بی بی کی سزاؤں کو کالعدم قرار دیکر رہائی کے احکامات جاری کیے جائیں۔
خیال رہے کہ آسیہ بی بی کے خلاف گزشتہ سال جون میں توہین رسالت کے الزام میں قاری محمد سالم کی درخواست پر مقدمہ درج کیا تھا اور اس مقدمہ میں یہ الزام لگایا تھا آسیہ نے اپنے ہمراہ کھتیوں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ بحث کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز کلمات کہے تھے۔
آسیہ نے اپنے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران یہ بیان دیا تھا کہ ان پر اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور انکار کرنے پر یہ مقدمہ درج کروا دیا گیا۔
BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔