’توہین رسالت قانون ختم ہونا چاہیے‘

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کا کہنا ہے کہ دو سو پچانوے سی یعنی توہین رسالت کا قانون ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے یہ بات لاہور میں ایک تقریب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ سیالکوٹ میں مبنیہ طور پر توہین رسالت میں ملوث ایک مسیحی نوجوان کی ہلاکت کے بعد یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کو ختم کیا جائے تو گورنر پنجاب نے جواب دیا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دو سوپچانوے سی کا قانون (توہین رسالت کا قانون) ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے ایک دیگر سوال پر کہا کہ سابق صدر کے ساتھ کوئی دستخط کر کے ڈیل نہیں کی بلکہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے سیاسی بصیرت سے جنرل مشرف پرسیاسی دباؤ رکھا جس کی وجہ سے وہ اپنے عہدے سے مستعفیْ ہوگئے۔ان کے بقول سابق صدر جنرل پرویز مشرف اس وقت ماورائے آئین قدم اٹھا سکتے تھے۔
سلمان تاثیر نے کہا کہ پنجاب کابینہ ابھی مکمل نہیں ہوئی اور بقول ان کے کابینہ میں صحت اور تعلیم کے وزراء نہیں اور کابینہ کو مکمل کرنے کے لیے کہا تھا لیکن شاید سیاسی مسائل کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا۔
ایک اور سوال پر گورنر پنجاب نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں نئے ججوں کی تقرری کے لیے کچھ ناموں پر اعتزاض کیا تھا اور اسی لیے گیارہ ناموں کی منظوری کے لیے بجھوائے تھے۔



