
ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ حملہ آوروں کی یہ کارروائی بظاہر منصوبہ بندی کے تحت کی گئی
یمن کے سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی شہر عدن میں دہشت گردوں نے انٹیلیجنس کے ایک مقامی صدر دفتر پر حملہ کر کے چودہ افراد کو ہلاک کردیا ہے۔
دہشت گردوں نے عمارت پر دو اطراف سے راکٹ پروپلڈ گرنیڈ اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے کم از کم گیارہ فوجی اہلکار تھے اور اس ہیڈ کوارٹر کے قریب ریاستی ٹی وی کے دفتر کے تین اہلکار بھی اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔
حملہ آور کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ یاد رہے کہ دو سال پہلے بھی القاعدہ نے اسی عمارت پر حملہ کیا تھا۔
رواں سال صدر عبداللہ صالح علی کی برطرفی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردوں نے عدن پر قبضہ کر لیا تھا لیکن حکومت نے اس شہر کا کنٹرول واپس لینے میں کامیاب ہوگئی۔
اس کے علاوہ ملک کے جنوب اور مشرق میں بھی دہشت گردوں نے کئی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ تاہم حال ہی میں امریکی حمایت کے ساتھ دو ماہ طویل فوجی آپریشن کے ذریعے حکومت نے جنوبی صوبے ابیان میں دہشت گردوں کے زیرِ انتظام کئی اہم قصبوں پر قابو پا لیا ہے مگر بیشتر مسلح گروہوں نے قریبی پہاڑی علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے۔
ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ حملہ آوروں کی یہ کارروائی بظاہر منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔ اہلکار کا ماننا تھا کہ حملہ آوروں کا تعلق القاعدہ سے تھا۔
چند ہفتے قبل مشتبہ القاعدہ ارکان نے جار کے شہر میں ایک جنازے پر خود کش حملہ کر کے پینتالس افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
مئی میں دارالحکومت صنعاء میں ایک فوجی پریڈ پر خود کش حملے میں نوے افراد ہلاک ہوئے تھے۔






























