یمن میں مشتبہ امریکی ڈرون حملہ، دس شدت پسند ہلاک

yemen militants

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامریکی خفیہ ادارے کے سربراہ رابرٹ ملر نے کہا تھا کہ یمن میں قائم القاعدہ اس وقت امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

یمن میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دو مشتبہ امریکی ڈرون حملوں میں القاعدہ کے دس عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ فضائی حملے ملک کے جنوب میں مارب اور شابوا صوبوں میں ہوئے۔

تاہم یمن اور امریکہ دونوں ہی حکومتوں نے تاحال اس گمنام جاسوس طیارے سے تعلق کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

یمن میں فوجی دفاع کی وزرات کا کہنا ہے کہ پہلے فضائی حملے میں صوبے شابوا میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔

جبکہ دوسرا حملہ تیل کی پیداوار کے علاقے مارب میں ہوا۔ جہاں دو گاڑوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔

گذشتہ پیر کے روز یمن کے حکام نے کہاتھا کہ شابوا صوبے میں کئے گئے ایک فضائی حملے مںی القاعدہ کے رہنما فہد القوسو کو ہلاک کیا گیا ہے۔ جو سنہ دو ہزار میں ایک جنگی بحری جہاز پر بم حملے سے تعلق کے شبے میں مطلوب تھے۔

یمن کے حکام کا کہنا ہے کہ ملکی فورسز نے جنوبی صوبہ ابیاں میں ایک حملے کے دوران پندرہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

امریکہ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اس نے یمن میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر فوجی تربیت دوبارہ شروع کی ہے۔ یہ تربیت یمن میں سیاسی بدامنی کے باعث معطل کر دی گئی تھی۔

اسی ہفتے کے اوائل میں امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ رابرٹ ملر نے کہا تھا کہ یمن میں قائم القاعدہ اس وقت امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔