یمن: خودکش حملے میں اہم فوجی کمانڈر ہلاک

یمن دھماکہ

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنجنوبی یمن میں فوج عسکرتی پسندوں کے خلاف لڑ رہی ہے

یمن میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوج کی قیادت کرنے والے کمانڈر ایک خودکش بم حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

جنرل سالم علی قطان کو دھماکہ خیز پیٹی پہنے ہوئے ایک حملہ آور نے عدن میں نشانہ بنایا۔

اس حملے میں کمانڈر کے علاوہ کم سے کم چار اور افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

یمن کی فوج ملک کے جنوبی علاقوں میں القاعدہ سے منسلک عسکریت پسند گروہوں سے لڑ رہی ہے۔

عسکریت پسندوں نے جنوب میں کئی علاقوں کا کنٹرول سنبھالا ہوا تھا لیکن حال میں فوج نے جنوبی صوبے عبیان کے کئی حصوں کو عسکریت پسندوں سے واپس لے لیا تھا۔

اس کارروائی میں فوج جنوب میں تین اہم شہروں کا کنٹرول واپس سنبھالنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

جنرل قطان کو مارچ میں یمن کے نئے صدر عبدالربوح منصور ہادی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد تعینات کیا گیا تھا۔

فوج کے سینیئر اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جنرل قطان کی ہلاکت یمن کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے اور حالیہ ہفتوں میں دہشت گردوں کے خلاف کامیابیاں انہی کی وجہ سے ہوئی تھیں۔

ایک سینیئر کمانڈر علی منصور نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’صرف تین ماہ میں قطان نے عسکریت پسندوں کے خلاف نمایاں کامیابی حاصل کی تھی‘۔

ادھر عبیان سے متصل جنوبی صوبے شبوی سے اطلاعات ہیں کہ شدت پسند تنظیم انصار الشریعہ کے تمام جنگجو علاقے سے نکل چکے ہیں۔

روزنامہ ’اخبار الیوم‘ کا کہنا ہے کہ جنگجو نے مقامی قبائلی رہنماؤں سے مذاکرات کے بعد علاقے سے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال ہے کہ یمن میں عسکریت پسندوں کے پہاڑی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں جہاں انہیں قبائلیوں کا تحفظ بھی حاصل ہے۔