یمن: مغوی اطالوی سفارتکار بازیاب

اطالوی اہلکار کو ثناء میں اطالوی سفارتخانے کے قریب سے اغواء کیا گیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناطالوی اہلکار کو ثناء میں اطالوی سفارتخانے کے قریب سے اغواء کیا گیا

اتوار کے روز یمن میں اطالوی سفارتخانے کے قریب اغوا کیے جانے والے اطالوی سیکورٹی اہلکار کو رہا کر دیا گیا ہے۔

ایک سرکاری اہلکار کے مطابق انتیس سالہ ایلیساندرو سپادوتو کو مائرب صوبہ کے گونر کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

یمن میں غیر ملکیوں کے اغوا کے واقعات عام ہیں تاہم عموماً یہ پر امن طریقے سے حکومتی مذاکرات کے بعد حل ہو جاتے ہیں۔

اہلکار نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ مغوی اطالوی سفارتکار کو مائرب صوبہ کے گونر کے حوالے کر دیا گیا ہے اور ان کی صحت ٹھیک ہے۔ جلد انہیں یمنی دارالحکومت ثناء لے جا کر اطالوی سفیر کے حوالے کر دیا جائے گا۔

قبائلی ذرائع کے مطابق ایلیساندرو سپادوتو کی رہائی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں قبائلی سرداروں نے اہم کردار ادا کیا۔

وزیرِ داخلہ کے مطابق اغوا کار کا تعلق الجلال قبیلے سے تھا اور وہ مغوی اہلکار کی رہائی کے بدلے میں اپنے اوپر عائد فردِ جرم کو منسوخ اور طاوان کی رقم کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ایک قبائلی شخص نے رائٹرز کو بتایا کہ اغوا کار ثناء میں کچھ زمینی رقبے کی واپسی کا مطالبہ بھی کر رہے تھے جو کہ ان کے دعوے کے مطابق ان کی ملکیت تھی۔

اطلاعات کے مطابق حکومت نے کم از کم ان میں چند مطالبات کو منظور کیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق گزشتہ پندرہ سالوں میں یمن میں دو سو سے زیادہ افراد اغوا ہوئے ہیں۔ حکام عموماً قبائلی یا القاعدہ کے مسلح گروہوں کو ان کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

اپریل میں اغواء کی جانے والی ہلالِ احمر کی ایک فرانسیسی اہلکار کو اس ماہ کے آغاز میں رہا کیا گیا تھا۔

مارچ میں اغواء ہونے والی ایک اور سوئس خاتون کی بازیابی ابھی تک عمل میں نہیں آسکی ہے۔