یمن: خودکش دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد نوے

،تصویر کا ذریعہnone
یمن کےدارالحکومت صنعا میں صدراتی محل کے قریب فوجی پریڈ کی ریہرسل کےدوران ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم از کم نوے افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
شدت پسند تنظیم القاعدہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم کے ایک رکن نے یہ خودکش حملہ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حملہ آور فوجی وردی میں ملبوس تھا اور اس نے فوجیوں کے ایک گروپ میں گھس کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
یمن کی وزارت دفاع کے مطابق اس واقعے میں دو سو بائیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
یمن کی وزارت دفاع کے اہلکار کرنل امین نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ’حملہ آور فوجی وردی میں ملبوس تھا اور اس کے پاس دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک بیلٹ تھی۔‘
ایک فوجی اہلکار احمد صوبوحی نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ’حقیقی طور پر یہ ایک قتل عام تھا، ہر طرف انسانی اعضاء کے بکھرے پڑے تھے۔‘
یمن میں فرروی میں نئے صدر عبد الرب منصور حادی کے اقتدار پر فائز ہونے کے بعد دارالحکومت صنعا میں یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور فوجی اہلکار تھا اور پریڈ کی ریہرسل میں حصہ لے رہا تھا، اس نے وزیر دفاع اور فوج کے سربراہ کی جانب سے فوجیوں کو سلامی دینے سے کچھ دیر پہلے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یمن میں قومی اتحاد کا دن انیس سو نوے میں جنوبی یمن کی شمولیت یمن یعنی عرب جمہوریہ یمن میں شمولیت کی سالگرہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔
سکیورٹی فورسز پر یہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دس روز قبل ہی یمنی فوج نے جنوبی صوبے ابیان میں القاعدہ سے منسلک ایک شدت پسند گروپ کے خلاف ایک کارروائی کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق گذشتہ ہفتے کے آخر میں ابیان کے قصبے جار میں ہونے والی جھڑپوں میں کم سے کم تینتیس شدت پسند اور انیس فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔







