شام: ساٹھ افراد کی لاشیں برآمد

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 17 اگست 2012 ,‭ 13:03 GMT 18:03 PST

تشدت کے واقعات میں اضافے کے بعد پورے دمشق میں فوج تعنیات کر دی گئی ہے۔

شام میں تشدت کا سلسلہ جاری ہے اورشامی کارکنوں کے مطابق دمشق کے مضافات سے کم از کم ساٹھ افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ مخالفین نے الزام لگایا ہے کہ یہ قتل عام حکومت نے کیا ہے۔

ایک ویب سائٹ پر غیر معیاری ویڈیو میں مسخ شدہ لاشیں دکھائی گئی جن کے ہاتھ پیچھے سے باندھے ہوئے تھے۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ لاشیں جمعرات کو دمشق کے جنوب میں قطانہ کے باہر گندگی کی ڈھیر سے ملیں۔

ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق کرانا ناممکن ہے کیوں کہ شام میں میڈیا کے بین الاقوامی ادارے آزادی سے کام نہیں کر سکتے۔

ان واقعات کا اس وقت پتہ چلا جب اقوام متحدہ نے شام میں امن مشن ختم کرنے کا اعلان کیا۔

اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل کے موجودہ صدر جیرارڈ ارود نے کہا ہے کہ حالات کا تقاضا ہے کہ امن مشن کی مدت کو بڑھایا جائے جو اتوار کی شب ختم ہو رہی ہے۔

امن مشن شامی حکومت کو بھاری اسلحہ کے استعمال سے روکنے اور شام میں تشدت کو کم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

جیرارڈ ارود نے یہ بھی کہا ہے کہ سکیورٹی کونسل شام میں بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے اور تشدد کم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی طرف سے رابطہ دفتر قائم کرنے کی تجویز کی حمایت پر رضامند ہوگئی ہے۔

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر ویٹالی چرکن کے مطابق اقوام متحدہ شام میں تشدد کے خـاتمے کے لیے بین الاقوامی اپیل جاری کرنا چاہتا ہے۔

روس کے سفیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے شام کے بحران پر بات چیت کے لیے جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے علاوہ سعودی عرب اور ایران کے نمائندوں کا اجلاس طلب کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سب اکھٹے ہو کر شام کے لڑائی میں فریقوں کو جلد از جلد تشدد ختم کرنے کی اپیل کریں اور فریقین کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ بات چیت کے لیے اپنے نمائندے مقرر کریں تاکہ جنیوا معاہدے کے تحت عبوری حکمت قائم ہو۔

شامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مارچ دو ہزار گیارہ سے اب تک تشدد کے واقعات میں اکیس ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>