
او آئی سی دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے
ستاون مسلم ممالک کی تنظیم ’آرگنائیزیشن آف اسلامک کوآپریشن‘ (او آئی سی) نے سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں منعقدہ اجلاس میں شام کی رکنیت معطل کر دی ہے۔
منگل کو شروع ہونے والے تین روزہ اجلاس میں شامی حکومت کے حامی ملک ایران نے بھی شرکت کی۔ او آئی سی کے اس اقدام کا امریکہ نے خیر مقدم کیا ہے۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس کے اختتام میں جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ شرکاء نے شام میں کشیدگی کے فوری اختتام پر اتفاق کیا اور شامی عوام کے قتلِ عام پر شدید تشویش کا اظہار بھی کیا۔
او آئی سی کے جنرل سیکریٹری احسان اوگلو کا کہنا تھا کہ یہ شامی حکومت کے لئے ایک سخت اور واضح پیغام ہے کہ اسلامی دنیا ایک ایسے نظام کو قبول نہیں کرسکتی جو اپنے ہی لوگوں کی جانیں لے اور ان کے خلاف بھاری ہتھیاروں، جنگی طیاروں اور ٹینکوں کا استعمال کرے۔
او آئی سی کے اس اقدام سے شامی صدر بشارالاسد کو دنیا بھر میں مزید سیاسی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اس سے قبل نومبر میں عرب لیگ نے بھی شام کی رکنیت معطل کردی تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ عالمی برادری کے لیے بھی پیغام ہے کہ مسلم دنیا شام کے مسئلے پر ایک پر امن حل کی حمایت کرتی ہے اور قتلِ عام کے فوری خاتمے کی خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم برادری اس مسئلے کو نہ تو مذہبی تنازع بننے دینا چاہتی ہے اور نہ ہی اسے خطے میں پھیلتا دیکھنا چاہتی ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ کا کہنا تھا کہ ’یہ اقدام صدر بشار الاسد کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی سیاسی تنہائی اور شامی عوام کی ایک جمہوری ریاست کے لیے جدوجہد کی حمایت کا عکاس ہے‘۔
او آئی سی کا اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس منگل کو شام کی رکنیت کی معطلی کی سفارش کے ساتھ شروع ہوا جس کا مسودہ وزرائے خارجہ کی سطح پر اجلاس کی تیاری کے دوران بنایا گیا تھا۔
او آئی سی دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ تاہم اس اقدام کی حیثیت زیادہ تر علامتی مانی جاتی ہے۔
شام کی عرب لیگ کی گزشتہ سال رکنیت معطل کرنے کے عمل کو صدر بشارالاسد نے مغربی ممالک اور اپنے حریفوں کی سازش قرار دیا تھا۔






























