
المقداد ایسا شامی قبیلہ ہے جس کا عسکری شعبہ بھی ہے
سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے شامی حکومت کے حامی قبیلے کی جانب سے اغواء کیے جانے کے خطرے کی بناء پر لبنان میں موجود اپنے تمام باشندوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کو کہا ہے۔
المقداد نامی قبیلے نے بدھ کو دھمکی دی ہے کہ وہ ان سعودی عرب، قطر اور ترکی سمیت ان سنّی ممالک کے باشندوں کو اغواء کر لے گا جو شام میں باغیوں کے حامی ہیں۔
قبیلے نے بدھ کو یہ اعلان بھی کیا کہ اس نے بیس شامیوں کو اغواء کیا ہے جو کہ دمشق میں باغیوں کی جانب سے ایک لبنانی کو یرغمال بنائے جانے کا بدلہ ہے۔
باغیوں کا کہنا ہے کہ حسن المقداد نامی یہ شخص حکومتی افواج کا ساتھ دے رہا تھا اور وہ لبنانی تنظیم حزب اللہ کا رکن ہے لیکن حزب اللہ نے اس الزام سے انکار کیا۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملک کی وزارتِ خارجہ کے حکام نے سعودی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ لبنان کے سفر سے گریز کریں۔
لبنان سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کے باشندوں میں تفریحی دوروں کے لیے مقبول ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے بھی اپنے باشندوں کے لیے ایسی ہی ہدایت جاری کی ہے۔ وزارت کے اہلکاروں کے مطابق ’متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے کو ایسی اطلاعات ملیں کہ ہمارے شہریوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے اور یہ فیصلہ لبنان کے مشکل اور حساس حالات کی وجہ سے کیا گیا ہے‘۔
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی کا کہنا ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ المقداد قبیلے کے افراد سمگلنگ میں ملوث ہیں اور یہ ایک ایسا قبیلہ ہے جس کا عسکری شعبہ بھی ہے۔
شام کے دیگر ہمسایہ ممالک ترکی، عراق اور اردن کی طرح لبنان میں بھی شام سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد نے پناہ لی ہے۔
لبنان کے شہر طرابلس میں حال ہی میں شام کے صدر بشارالاسد کے حامیوں اور مخالفین میں مسلح جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دیگر ہمسایوں کی نسبت شام کے بحران سے لبنان کے داخلی حالات کے متاثر ہونے اور وہاں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافے کے سب سے زیادہ امکانات ہیں۔






























