لبنان: طرابلس میں فرقہ وارانہ جھڑپیں

،تصویر کا ذریعہ
لبنان کے شہر طرابلس میں سنی اور شعیہ مسلمانوں کے درمیان جھڑپ کے دوران دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک فوجی شامل ہے۔
تشدد کا یہ واقعہ گزشتہ رات اس وقت پیش آیا جب اقلیتی علوی طبقے کے بعض مسلحہ افراد کی سنی جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔
لبنان کے ہمسایہ ملک شام میں گزشتہ مارچ میں شروع ہونے والی حکومت مخالف بغاوت کے بعد ساحلی شہر طرابلس(لیبیا کے دارالحکومت کا نام بھی طرابلس ہے) میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
اس طرح کی کشیدگی اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ شام کے واقعات لبنان پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ شام کے صدر بشار الاسد خود ایک علوی ہیں۔ علوی لبنان میں ایک قبائلی مسلک ہے جو خود کو شعیہ مسلک کے قریب پاتا ہے۔
اس برس فروری میں طرابلس میں شام کے صدر بشر الاسد کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپ میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
لبنان میں سنہ 1990-1975 کی خانہ جنگی کے بعد سے علوی اقلیتی اپنے سنی پڑوسیوں کے ساتھ کئی بار لڑے ہیں۔
حالیہ واقعہ میں دو دستی بم پھینکے گئے، اطلاعات کے مطابق ان دستی بموں سے ہونے والے دھماکوں کی آوازیں پورے شہر میں سنائی دیں۔ علوی اور سنیوں کی ان بستیوں میں فوج کی تعنیاتی کے باوجود اتوار کی صبح تک گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شام میں حکومت اور فوج میں علوی شعیہ اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ لبنان کی سنی برادری صدر بشار لاسد کے خلاف بغاوت میں پیش پیش رہے ہیں۔
استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار جاناتھین ہیڈ کا کہنا ہے کہ لبنان میں مذہبی رہنما کئی بار متنبہ کرچکے ہیں کہ شام میں جاری کشیدگی لبنان تک پھیل سکتی ہے۔
واضح رہے کہ لبنان نے ہزاروں کی تعداد میں شامی مہاجرین کو اپنے یہاں پناہ دی ہے۔







