حولہ قتلِ عام میں فوج اور ملیشیا کا ہاتھ: یو این

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 16 اگست 2012 ,‭ 19:48 GMT 00:48 PST

اقوامِ متحدہ کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ مئی میں شام کے شہر حولہ میں ایک سو آٹھ افراد کے قتل میں شام کی فوج اور ملیشیا دونوں کا ہاتھ تھا۔

دوسری جانب شام میں حکومت مخالف کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب کے قریبی علاقے عزاز میں جنگی طیاروں کی بمباری سے تیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

کلِک حولہ قتل عام بین الاقوامی مداخلت کے لیے کیا گیا: شام

کلِک حولہ قتل عام: سلامتی کونسل کی شدید مذمت

پچیس اور چھبیس مئی کو حولہ میں ہونے والے قتلِ عام کو شام میں مارچ دو ہزار گیارہ سے لے کر اب تک عام شہریوں پر ہونے والا سب سے خوفناک حملہ کہا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی تشکیل کردہ انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتی فوج اور حزبِ مخالف کے گروہوں نے جنگی جرائم کیے ہیں۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ شام کی حکومت نے اعلیٰ سطح پر انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کی منظوری دی تھی۔

ایک سو دو صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان خلاف ورزیوں میں قتل، اذیت اور جنسی تشدد شامل ہے۔ رپورٹ میں حزبِ مخالف کی فورسز کو بھی جنگی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے لیکن اتنا نہیں جتنا کہ حکومتی فورسز کو۔

عزاز پر فضائی حملہ

بمباری کے نتیجے میں دس مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں

شامی باغیوں کے مطابق بدھ کو عزاز پر ہونے والی بمباری میں وہ عمارت بھی نشانہ بنی ہے جہاں ان گیارہ لبنانیوں کو رکھا گیا تھا جنہیں باغیوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔

ایک باغی کمانڈر نے لبنانی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ لوگ جس عمارت میں تھے اسے بھی نشانہ بنایا گیا ہے‘۔ اطلاعات کے مطابق حملے کے بعد چار یرغمالی لاپتہ ہیں جبکہ بقیہ زخمی ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے لیے کام کرنے والے ایک مقامی صحافی کے مطابق بمباری کے نتیجے میں دس مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں اور لوگ چیختے چلاتے ملبے سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالتے دکھائی دیے ہیں۔

ایک مقامی شخص نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’تمام مکانات میں عورتیں اور بچے موجود تھے جو رمضان کی وجہ سے محوِ خواب تھے‘۔

عزاز نامی قصبہ حلب سے تیس میل دور ترک سرحد سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے اور باغیوں کے مطابق زخمیوں کو نزدیکی فیلڈ ہسپتال کے علاوہ سرحد پار ترک علاقے میں بھی لے جایا گیا ہے۔

یہ واضح نہیں کہ عزاز میں باغی افواج موجود ہیں یا نہیں تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق باغیوں کے مراکز قصبے کے قریب ہی واقع ہیں۔

دو تہائی ارکان کی حمایت

شام کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز کی منظوری کے لیے ستاون رکنی تنظیم کے دو تہائی ارکان کی حمایت ضروری ہے۔

شام کے بحران پر غور کے لیے اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کا اجلاس بدھ کوسعودی عرب کی میزبانی میں مکہ میں ہو رہا ہے۔ امکان ہے کہ اجلاس میں شام کی او آئی سی کی رکنیت معطل کرنے پر غور ہوگا تاہم ایران نے اس تجویز کی شدید مخالفت کی ہے۔

شام کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز کی منظوری کے لیے ستاون رکنی تنظیم کے دو تہائی ارکان کی حمایت ضروری ہے۔

سعودی عرب نے کھل کر شام کے باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ایران کا الزام ہے کہ سعودی عرب، قطر اور ترکی شامی صدر بشار الاسد کے مخالفین کی مالی اور عسکری مدد کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>