
شام کے منحرف وزیر اعظم ریاض حجاب نے کہا ہے کہ صدر بشارالاسد کی حکومت اخلاقی، معاشی اور عسکری لحاظ سے کمزور ہو رہی ہے۔
اردن کے دارالحکومت عمان میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر بشارالاسد کی حکومت کا ملک کے تیس فیصد سے زیادہ حصے پر کنٹرول نہیں ہے۔
انہوں نے شام کی حزب مخالف سے متحد ہونے اور فوج سے بشارالاسد کے خلاف اپنی عوام کا ساتھ دینے کی استدعا کی۔
شام کے سابق وزیر اعظم رياض حجاب گزشتہ ہفتے منحرف ہو کر ’انقلابیوں‘ سے جا ملے تھے۔
شام کے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ ’باغیوں‘ کا ساتھ دے رہے ہیں، انہوں نے ملک کے دیگر سیاسی اور فوجی رہنماؤں سے استدعا کی کہ وہ شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کر دیں۔
انہوں نے کہا ’میں شام کی فوج سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ مصر اور تیونس کی فوجوں کی پیروی کرتے ہوئے شامی عوام کا ساتھ دے۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے شام کے سابق وزیر اعظم رياض حجاب کا اپنے خاندان کے ہمراہ منحرف ہونے کے بعد یہ پہلا بیان ہے۔
ریاض حجاب اسد حکومت سے منحرف ہونے والے اب تک سب سے اعلیٰ سطح کے عہدیدار ہیں۔
دریں اثناء چینی حکام کے مطابق صدر بشارالاسد کے ایک قریبی ساتھی ملک کے بحران پر بات چیت کے لیے چین پہنچ گئے ہیں۔
چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق ان کی حکومت شام کے حزب مخالف اراکین کو بھی چین کا دورہ کرنے کی دعوت دینے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔
اس سے پہلے چین دو بار شام کے مسئلے پر اقوم متحدہ کی دو قرار دادوں کو ویٹو کر چکا ہے۔
دریں اثناء اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیوں کی سربراہ ویلری ایموس ہنگامی امداد کی ضرورت کا جائزہ لینے کے لیے منگل کو شام پہنچ گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق شام میں جاری بحران سے اب تک بیس لاکھ افراد متاثر اور دس لاکھ شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔
.






























