جدہ: شام پر عرب لیگ کا اجلاس ملتوی

شام کے دو بڑے شہروں دمشق اور حلب میں شدید لڑائی جاری ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنشام کے دو بڑے شہروں دمشق اور حلب میں شدید لڑائی جاری ہے

شام کے معاملے پر بات چیت کے لیے سعودی عرب کے شہر جدہ میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔

امکان تھا کہ اجلاس میں شام کے لیے کوفی عنان کی جگہ نئے سفیر کی تقرری پر غور کیا جائے گا۔

عرب لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری احمد بن ہیلی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے اور نئی تاریخ کا تعین ابھی نہیں کیا گیا ہے۔

انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ اجلاس کیوں ملتوی کیا گیا ہے۔

ادھر امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ شام کے بحران کا حل تلاش کرنے اور شام میں حزبِ اختلاف کی حمایت کے لیے امریکہ اور ترکی ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کر رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بات سنیچر کو ترکی کے دورے کے دوران استنبول میں ترک صدر، وزیراعظم اور دیگر اہم رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ترک رہنماؤں سے ملاقات میں شام کے سلسلے میں بدترین ممکنات بھی زیرِ غور آئے جن میں شامی حکومت کی جانب سے باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا امکان بھی شامل تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بیس لاکھ شامیوں کو امداد کی ضرورت ہے اور امریکہ شام سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے امدادی رقم میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ ترکی میں اس وقت پچاس ہزار سے زائد شامی پناہ گزین موجود ہیں اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

دریں اثناء شام کے دو بڑے شہروں دمشق اور حلب میں شدید لڑائی جاری ہے۔

اس ماہ کے آغاز میں اقوام متحدہ کے سابق سیکٹری جنرل کوفی عنان نے شام کے معاملے پر اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کے عہدے سے اس وقت استعفیٰ دے دیا تھا جب ان کا مجوزہ چھ نقاتی امن منصوبہ کشیدگی ختم کرنے میں ناکام رہا۔

اقوام متحدہ میں سفارتی ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ اس عہدے کے لیے الجزائر کے سینیئر سفارت کار لخدر براہیمی کو مقرر کیا جائے گا۔

شام میں اقوام متحدہ کے امن مبصرین کے مشن کا مینڈیٹ ایس ہفتے کے آخر میں ختم ہو رہا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ شام میں ابھی بھی اس بات کی ضرورت ہے زمینی حقائق کی روشنی میں عسکری حالات کا غیر جانبدار اندازہ لگایا جائے۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اس امن مشن میں توسیع کے معاملے پر جمعرات کے روز بحث کی جائے گی۔ تاہم کونسل میں اس معاملے پر اتفاقِ رائے نہیں پائی جاتی کیونکہ روس، جو کہ ایک شامی حکومت کا اتحادی ہے، اس مشن میں توسیع کا حامی ہے جبکہ امریکہ اس توسیع کے حق میں نہیں۔