شامی باغیوں کے لیے پچاس لاکھ پاؤنڈ امداد

برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ ولیم ہیگ کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کا فری سیرئین آرمی یعنی شامی باغیوں کو غیر مہلک اشیا کی صورت میں پچاس لاکھ پاؤنڈ امداد دینے کا فیصلہ درست ہے۔
اس امداد میں بجلی کے جنریٹر، ریڈیو اور دیگر مواصلاتی آلات بھی شامل ہیں۔ تاہم اس امداد میں کسی قسم کے ہتھیار شامل نہیں ہوں گے۔
بی بی سی کے جیمز رابنز کا کہنا تھا کہ یہ اقدام شامی باغیوں کی جانب برطانوی پالیسی میں ایک واضح تبدیلی ہے کیونکہ اس سے پہلے ان باغیوں کے بارے میں بہت سے خدشات سامنے آ رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ شامی حزبِ مخالف میں فرقہ واریت کے علاوہ اس بات کی بھی شکایات ہیں کہ وہ بہتر حکومتی عقائد کے بارے میں کوئی واضح حکمتِ عملی پیش نہیں کر سکے ہیں۔
صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سترہ ماہ سے جاری پر تشدد مہم میں کچھ ارکان کے مطابق بیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے پہلے شام کے دوسرے بڑے شہر حلب میں سکیورٹی فورسز نے شدید لڑائی کے بعد باغیوں کے زیر قبضہ ایک ضلع صلاح الدین پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
شامی سکیورٹی فورسز نے شہر کے گرد و نواح کے علاقوں میں باغیوں کے ٹھکانوں پر ٹینکوں اور جنگی جہازوں سے کارروائی شروع کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثناء اقوام متحدہ میں سفارتی ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ شام کے مسئلے پر الجزائر کے سینیئر سفارت کار لخدر براہیمی کو کوفی عنان کی جگہ عرب لیگ اور اقوام متحدہ کا مشترکہ ایلچی مقرر کیا جائے گا۔ ابھی تک اقوام متحدہ کی جانب سے ان کے نام کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
رواں ماہ کے آغاز پر شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔
کوفی عنان کے مطابق شام میں بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں اور اقوام عالم کا عدم اتفاق ان کے استعفے کا وجہ بنا۔کوفی عنان اگست کے اختتام تک اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔
لخدر براہیمی اس سے پہلے اہم سفارتی عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
انہوں نے سنہ انیس سو چوراسی سے اکانوے تک لبنان میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ وہ افغانستان کے مسئلے پر دو مرتبہ اقوام متحدہ کے ایلچی کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ وہ سنہ انیس سو چھیانوے سے اٹھانوے تک اور بعد میں سال دو ہزار ایک سے دو ہزار چار تک افغان مسئلے پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سفارت کار مقرر ہوئے۔ اس کے علاوہ جنوبی افریقہ اور ہیٹی کے مسئلے پر بھی اہم کردار ادا کیا۔
اس سے پہلے شام میں حزبِ اختلاف کے کمانڈروں نے تسلیم کیا تھا کہ حلب شہر کا ایک اہم ضلع صلاح الدین اُن کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔
باغی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کارروائی کے نتیجے میں وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق فوج کو اب اِس علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل ہو گیا ہے اور ’دہشت گردوں‘ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حلب شہر کے مختلف علاقوں میں حملے ہوئے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کی گئی ہے۔
شام کے ہمسایہ ملک لبنان میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میئور کے مطابق حلب شہر کے مشرقی علاقوں سمیت کئی اضلاع پر اب بھی باغیوں کا قبضہ ہے اور وہاں حزب اختلاف کے کارکنوں کے مطابق سکیورٹی فورسز نے جمعرات کو شدید بمباری کی ہے۔
یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران شام کے مسئلے پر ایک عالمی اجلاس کی تیاری کر رہا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں وہی ممالک شرکت کریں گے جو شام کے مسئلے پر ’حقیقت پسندانہ ‘ موقف رکھتے ہوں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ تہران میں ہونے والے اس اجلاس میں کون سے ممالک شرکت کر رہے ہیں۔
دریں اثناء ایران کے شامی حکومت کے ساتھ قریبی رشتوں کے پیش نظر مغربی ممالک نے اس بات پر شک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ ایران شام کے مسئلے پر ثالثی کا کردار ادا کرسکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فوج نے حلب کے گنجان آبادی والے علاقے صلاح الدین میں لڑائی کے دوران ٹینکوں اور بھاری اسلحہ کا استعمال کیا۔ سیٹلائٹ سے موصول ہونے والی تصاویر میں بمباری کے بعد تباہ شدہ عمارتوں میں لاشوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
امدادی کارکنوں کے مطابق فوج کی گولہ باری سے حلب میں بارہ افراد جاں بحق ہوئے تاہم ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
شام میں گزشتہ ایک سال سے صدر بشارالاسد کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔







