’قتلِ عام میں شامی فوج، ملیشیا کا ہاتھ‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 اگست 2012 ,‭ 15:41 GMT 20:41 PST

اقوامِ متحدہ کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ مئی میں شام کے شہر ہاؤلا میں ایک سو آٹھ افراد کے قتلِ عام میں شام کی فوج اور ملیشیا کا ہاتھ تھا۔

اس قتلِ عام کو شام میں مارچ دو ہزار گیارہ سے لے کر اب تک عام شہریوں پر ہونے والا سب سے خوفناک حملہ کہا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی تشکیل کردہ انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حزبِ مخالف کے گروہوں اور حکومتی فوج نے جنگی جرائم کیے ہیں۔

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>