ویت نام: مضرِ صحت مادے کی صفائی شروع

ایجنٹ اورنج کے متاثرین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنویت نامی خاتون ایجنٹ اورنج سے معذور بچوں کے بارے میں بتا رہی ہیں

امریکہ نے ویت نام میں ’ایجنٹ اورنج‘ نامی مضرِ صحت مادے سے متاثرہ علاقے کو صاف کرنے میں مدد دینے کے لیے ایک منصوبہ شروع کیا ہے۔

یہ انیس سو پچھتر میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے اختتام کے بعد سے آلودگی ختم کرنے کی پہلی کوشش ہے۔

مرکزی شہر دانانگ کے ہوائی اڈے سے اس کام کا آغاز کر دیاگیا ہے۔

امریکہ نے دشمن کو آڑ فراہم کرنے والے جنگل تباہ کرنے کے لیے نباتات کش ادویات کے ہزاروں گیلن سپرے کیے تھے۔

ویت نام کا کہنا ہے کہ ایجنٹ اورنج سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں، جب کہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد بچے شدید پیدائشی نقائص کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔

ایجنٹ اورنج سے متاثرہ افراد کی تنظیم کے نائب چیئرمین ٹران ژوان تھو نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ صفائی کا کام ’تھوڑی تاخیر سے شروع ہوئی ہیں لیکن پھر بھی وہ اس کا بہت خیر مقدم کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب امریکی حکومت ہماری مدد کی ذمے داری سنبھال رہی ہے۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں ان کوششوں میں اضافہ ہو گا۔‘

’البتہ ہم سمجھتے ہیں کہ صفائی کا کام ایجنٹ اورنج کے ویت نامی متاثرین کو معاوضہ دینے سے الگ ہے، جن کے ساتھ اب بھی ناانصافی ہو رہی ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو، یہ متاثرین اپنے مقدمات جاری رکھیں گے۔‘

ویت نامی نژاد امریکی شہریوں کے ایک گروہ کی طرف سے امریکی صنعت کاروں کے خلاف ایک مقدمہ دو ہزار سات میں خارج کر دیا گیا تھا۔

جمعرات کے روز دانانگ ہوائی اڈے پر ایک تقریب منعقد کی گئی جہاں جنگلوں پر سپرے کرنے سے قبل یہ نباتات کش مواد سٹور کیا گیا تھا۔ ان جنگلوں میں شمالی ویت نام کی کمیونسٹ حکومت کے حمایت یافتہ ویت کانگ گوریلا چھپے ہوئے تھے۔

امریکی حکومت صفائی کے اس منصوبے کے لیے چار کروڑ دس لاکھ ڈالر فراہم کر رہی ہے۔ یہ منصوبہ دو امریکی کمپنیوں نے شروع کیا ہے جو ویت نامی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔

امریکہ نے ماضی میں ویت نام میں سماجی کاموں میں تو مدد دی ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ وہ صفائی کی مہم میں براہِ راست حصہ لے رہی ہے۔

امریکی سفارت خانے سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آلودہ مٹی اور اس کی تہوں کو کھود کر گرم کیا جائے گا تاکہ مضر مادہ تلف کیا سکے۔

یو ایس ایڈ کے فرینک ڈونوون نے ریڈیو آسٹریلیا کو بتایا کہ یہ منصوبہ دو ہزار سولہ تک جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا ’ہمیں توقع ہے کہ متاثرہ علاقوں سے مضر مادے کو اس حد تک صاف کر لیا جائے گا جو امریکی اور ویت نامی دونوں حکومتوں کو قابلِ قبول ہو اور جو صنعتی، تجارتی اور رہائشی مقاصد کے لیے محفوظ ہو۔‘

ایسے درجنوں آلودہ علاقے اور بھی ہیں جہاں یہ مادہ ذخیرہ کیاگیا تھا۔ ان میں دو مزید ایئرپورٹ شامل ہیں۔

امریکہ اور ویت نام نے مکمل سفارتی تعلقات انیس سو پچانوے میں بحال کیے تھے۔ حالیہ دنوں میں چین کی طرف سے بحرِ جنوبی چین میں متنازع علاقوں کے مسئلے پر تشویش کے بعد دونوں ممالک قریب آئے ہیں۔

امریکہ نباتات کش مادے سے متاثرہ اپنے سابق فوجیوں کو تو معاوضہ دیتا ہے لیکن ویت نامی شہریوں کو نہیں۔

بی بی سی کی ویت نامی سروس کے نگا پھام کہتے ہیں کہ بہت سے ویت نامیوں کے لیے ایجنٹ اورنج ناانصافی کا معاملہ ہے اور جنگ کا تلخ ورثہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اکثر ویت نامی سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو مدد کے لیے مزید کچھ کرنا چاہیے۔