کوفی عنان: شام کے مشن سے مستعفیٰ

،تصویر کا ذریعہAP
شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔
جنیوا میں جمعرات کو نیوز کانفرنس میں اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کوفی عنان نے بتایا کہ شام میں بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں اور اقوام عالم کا عدم اتفاق ان کے استعفے کا وجہ بنا۔
کوفی عنان کے مطابق ان کے یا کسی اور شخص کے لیے شامی حکومت اور حزب اختلاف کو ملک میں سیاسی عمل شروع کرنے پر مجبورکرنا ناممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ شام کو مزید آفت سے بچانے کے لیے بین الاقوامی برادری کو جرات کا مظاہر کرنا ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو شام کے لوگوں کی خاطر اپنے جزوی مفادات قربان کرنے ہوں گے کیونکہ شام کے مرد، خواتین اور بچے پہلے ہی بہت زیادہ متاثر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شام کے صدر بشار االاسد کو اقتدار چھوڑنا پڑے گا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شام کے خلاف کسی بھی قسم کا ایکشن لینے میں ناکام رہی ہے۔
واضح رہے کہ چین اور روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرار دادوں کو ویٹو کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ کوفی عنان کے جانشین کے لیے عرب لیگ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
بان کی مون نے کوفی عنان کے شام کے بحران کو حل کرنے کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشکل حالات میں خدمات سرانجام دیں۔
کوفی عنان کو فروری میں شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کا عالمی مندوب تعینات کیا گیا تھا۔
کوفی عنان اگست کے اختتام تک اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔







