امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید پابندیاں

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر براک اوباما نے ایران کے توانائی کے شعبے اور مالیاتی کمپنیوں کے خلاف مزید معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
ان نئی پابندیوں کا مقصد ایران کے لیے پہلے سے عائد پابندیوں سے بچنے کی کوشش کو مشکل بنانا ہے۔
صدر اوباما نے پابندیوں کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اب بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کا سفارتی حل چاہتا ہے لیکن اس کے لیے ضرور ہے کہ ایران اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔
امریکی صدر نے یہ نئی پابندیاں ایسے وقت میں عائد کی ہیں جب امریکی کانگریس میں رواں ہفتے ہی ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے قانون پر ووٹنگ ہونے والی ہے۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے اس صدارتی حکم سے وائٹ ہاؤس یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ ایران کے معاملے پر سخت موقف پر قائم ہے۔ حال ہی میں عہدۂ صدارت کے لیے رپبلکن پارٹی کے امیدوار مٹ رومنی نے اوباما انتظامیہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہی۔
ان نئی پابندیوں میں ایران کی تیل کی صنعت پر پہلے ہی سے لگی پابندیوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور ایرانی پیٹروکیمیکل مصنوعات کی خریداری یا حصول کو پابندی کے قابل قرار دیا گیا ہے۔
صدر اوباما نے حکم نامے میں کہا ہے کہ نیشنل ایرانین آئل کمپنی، ایران کے مرکزی بینک سے کاروبار یا ایران کو امریکی ڈالر کی خریداری اور اہم دھاتوں کے حصول میں مدد دینے والی کمپنیوں کے خلاف اقدامات کیے جائیں گے۔
نئی پابندیوں میں چین اور عراق کے دو بینکوں کو بھی ہدف بنایا گیا ہے جن کے بارے میں امریکہ کا ماننا ہے کہ وہ ایران کو پابندیوں سے بچنے میں مدد کرتے ہیں۔ ان دونوں بینکوں کو اب امریکی مالیاتی نظام سے الگ کر دیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی صدر نے کہا ہے کہ یہ پابندیاں اس بات کا مظہر ہیں کہ امریکہ ہر اس مالیاتی ادارے کو بےنقاب کرے گا جو ’عالمی مالیاتی نظام تک رسائی کے لیے مضطرب ایرانی حکومت کا مددگار ہے‘۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ایرانی حکومت اپنے موقف پر اڑی رہی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی مزید پابندیاں عائد کرتے رہیں گے۔







