شام میں قیامِ امن کا منصوبہ ناکام: کوفی عنان

شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں قیامِ امن کے لیے ان کا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے۔
فرانسیسی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کوفی عنان نے کہا کہ ثبوتوں سے واضح ہو گیا ہے کہ مسئلے کا سیاسی حل نکالنے کے لیے ان کی کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شام پر مستقبل میں ہونے والی کسی بھی بات چیت میں شامی صدر بشارالاسد کے حامی ایران کو ضرور شامل کیا جانا چاہیے۔
ادھر شام میں حکومت مخالف کارکنوں کا کہنا ہے کہ سنیچر کو پرتشدد واقعات میں مزید پچاس افراد مارے گئے ہیں۔
کوفی عنان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ شام میں امن مشن کو مختصر کر کے دوبارہ سیاسی مصالحت کے عمل پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ امن مشن کو شامی فوج کی نگرانی کی بجائے سیاسی گروہوں سے بات چیت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ اپریل کے مہینے میں جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود شام میں پر تشدد واقعات رونما ہوتے رہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے شام میں تین سو مبصرین پر مشتمل جو امن مشن تعینات کیا گیا تھا اس کی مدت دو ہفتے میں ختم ہوجائے گی۔ سکیورٹی کونسل مشن کی مدت میں توسیع پر فیصلہ بدھ کو کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں تعینات تمام امن مبصرین کو واپس نہ بلایا جائے تاہم ان کی تعداد کو کم کیا جائے۔

اقوام متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ عالمی برادری شام کو تنہا نہیں چھوڑ رہی۔
رپورٹ میں دی گئی تجاویز میں سے ایک کے مطابق امن مبصرین کو سکیورٹی خدشات کی وجہ سے کھلے عام سڑکوں پر سفر نہیں کرنا چاہیے بلکہ دمشق میں مقیم رہنا چاہیے۔
واضح رہے کہ شام میں گزشتہ برس شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں تشدد کے سبب اب تک تقریباً سولہ ہزار افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
گزشتہ ہفتے جنیوا میں اہم عالمی اور علاقائی طاقتوں کا اجلاس بلایا گیا تھا جس میں شام میں عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔
ادھر جمعہ کو شام کی فوج کے اہم جنرل مناف طلاس ملک سے فرار ہو کر ترکی پہنچ گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق وہ وہاں سے فرانس جانے کی کوشش کررہے تھے۔
بریگیڈیئر جنرل مناف طلاس کا خاندان کے شام کے حکمران خاندان سے انتہائی قریب تصور کیا جاتا ہے اور ان کے والد شام کے وزیر دفاع رہ چکے ہیں۔







