شام: غیر ملکی حل ’ناقابل قبول‘

شام کے صدر بشار الاسد

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنایران کے سرکاری ٹیلی وژن پر صدر بشار الاسد کا انٹرویو جمعرات کو نشر ہوا

شام کے صدر بشار الاسد نے ایرانی ٹیلی وژن سے انٹرویو میں کہا ہے کہ انہیں شام میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی غیر ملکی منصوبہ یا تجویز قبول نہیں ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت پر آیا ہے جب عالمی قوتیں اس سلسلے میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایک اجلاس کرنے والی ہیں۔

شام کے صدر نے ایران کے سرکاری ٹیلی وژن پر کہا کہ شام میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ اس کا اندرونی معاملہ ہے اور اس میں دوسرے ممالک کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ممالک جتنا بھی دباؤ ڈالیں ان کی حکومت اپنی داخلی پالیسی تبدیل نہیں کرے گی۔

جمعرات کو نشر ہونے والے اس انٹرویو میں صدر بشار الاسد نے کہا کہ ان کے ملک پر کافی عرصے سے بیرونی دباؤ ڈالا جا رہا ہے لیکن اس کا نہ ماضی میں اثر ہوا اور نہ مستقبل میں ہوگا۔

شام کے صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی حکومت کی مسلح باغیوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردوں کو ختم کرنا شام کی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ملک کے جس بھی کونے میں دہشت گرد ہوں ان کو ختم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ جب آپ ایک دہشت گرد کو ہلاک کرتے ہیں تو شاید اس سے آپ سینکڑوں بلکہ ہزاروں شہریوں کی جانیں بچاتے ہیں۔‘

ادھر شام میں لڑائی اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور جمعہ کو لندن میں مقیم تنظیم ’دا آبزروٹری فار ہیومن رائٹس‘ کا کہنا ہے کہ عام شہریوں سمیت کم سے کم پچیس افراد جمعہ کو مارے گئے۔ جمعرات کو دوما کے شہر سے اطلاعات تھیں کہ بچوں سمیت تینتالیس افراد مارے گئے تھے۔

شام کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر بھی کوششیں جاری ہیں۔ جمعہ کی شام کو روس اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کی روس کے شہر سینٹ پیٹرسبرگ میں ملاقات ہو رہی ہے اور سنیچر کو جنیوا میں ایک بین الاقوامی اجلاس ہو رہا ہے۔ جنیوا کے اجلاس کے بارے میں شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان نے کہا ہے کہ وہ پُر امید ہیں کہ اجلاس سے کوئی مثبت بات نکلے گی۔

تاہم صدر بشار الاسد کے ایرانی ٹیلی وژن پر انٹرویو میں انہوں نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ فی الوقت شام کا عالمی برادری کے دباؤ میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔