پوتن اسرائیل میں، ایران ایجنڈے پر ہو گا

سنہ دو ہزار پانچ میں پوتن روس کے پہلے صدر تھے جنہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti

،تصویر کا کیپشنسنہ دو ہزار پانچ میں پوتن روس کے پہلے صدر تھے جنہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔

روس کے صدر ولادمیر پوتن نے گزشتہ سات سالوں میں اپنا پہلا مشرقِ وسطیٰ کا دورہ، پیر کو اسرائیل کے دورے سے شروع کیا ہے۔

وہ اسرائیل میں ایک روز قیام کریں گے جس کے بعد منگل کو وہ فلسطینی رہنماء محمود عباس سے ملاقات کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔ اس دورے میں وہ اردن کے سربراہ شاہ عبداللہ سے بھی ملاقات کریں گے۔

اسرائیلی رہنماؤں کے ساتھ ان کی بات چیت میں ایران کے جوہری عزائم اور شام میں جاری بحران سب سے اہم ہوں گے۔

ان کی مصروفیات میں اسرائیل کے روسی زبان بولنے والے وزیرِ خارجہ آوگنور لیبرمین، صدر شمعون پیریز اور وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو سے ملاقاتیں شامل ہیں۔ وہ دوسری جنگِ عظیم میں ہلاک ہونے والے لاکھوں روسی فوجیوں کی یاد میں منعقد ایک تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔

اسرائیل میں سابقہ سوویت یونین سے آنے والے تقریباً دس لاکھ سے زیادہ مہاجرین مقیم ہیں جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ثقافتی تعلقات ہیں۔ تاہم سیاسی طور پر ان روابط میں اکثر تناؤ رہا ہے۔

پوتن چار سال بطور وزیرِاعظم رہنے کے بعد روسی صدر بنے ہیں اور اب خارجہ امور ان کے ذمے ہیں۔

روسی صدر نے ماضی میں کہا تھا کہ اسرائیل کا ایران کی جوہری تنصیبات پر، جن میں سے چند کی تعمیر روس نے کی ہے، ممکنہ حملہ انتہائی بڑی غلطی ہوگی۔

دوسری جانب بہت سے اسرائیلی روس کو الزام دیتے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے میں سستی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

ادھر شام جو کہ روسی ہتھیاروں کا خریدار ہے اور بحیرہ روم میں روسی بحریہ کے لیے ایک پورٹ بھی مہیا کرتا ہے، زیرِ بحث آئے گا۔

اب تک اسرائیلی رہنماؤں نے شام کے معاملے پر بیانات دینے سے گریز کیا ہے۔