ماسکو: صدر پوتن کے مخالفین کا احتجاج

،تصویر کا ذریعہReuters

روس کے دارالحکومت ماسکو میں عام تعطیل کے موقع پر حکومت مخالف ہزاروں مظاہرین اجتجاج کر رہے ہیں۔

روس کے صدر ولاد یمیر پوتن کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ پہلا بڑا احتجاجی جلوس ہے۔

منگل کو احتجاجی مظاہرے سے ایک دن پہلے پولیس نے حکومت مخالف کئی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے ہیں۔

اس سے پہلے گزشتہ ہفتے روسی صدر نے ایک نئے قانون پر دستخط کیے جس کے تحت مظاہروں کے حوالے سے قانون کی خلاف وزری کرنے والوں پر بھاری جرمانے کیے جائیں گے۔

روس میں گزشتہ سال دسمبر میں صدارتی انتخابات میں ولایمیر پوتن کے تیسری مدّت کے لیے صدر منتخب ہونے کے بعد سے احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات میں دھاندلی کی گئی اور ان کا مطالبہ ہے کہ صدارتی انتخابات دوبارہ منعقد کیے جائیں۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو روزنبرگ کا کہنا ہے کہ ’روسی صدر کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ماسکو میں دسویں ہزاروں افراد مظاہرہ کر رہے ہیں اور شہر کے وسط میں احتجاجی جھنڈوں، احتجاجی پلے کارڈز اور بینرز کا ایک سمندر نظر آ رہا ہے۔

مظاہرین نعرے لگا رہے ہیں کہ’پوتن چور ہیں، پوتن کے بغیر روس۔‘

دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا کہ روس کو سماجی دھچکوں کی مدد سے کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روسی صدر نے کہا ہے کہ ’ہم کسی بھی ایسی چیز کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے جس کی وجہ سے ملک کمزور ہو اور معاشرے کی تفریق کا سبب بنے۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روسی صدر نے اس بار حزب اختلاف کے لیے سخت رویہ اپنایا ہے۔

اس سے پہلے حکومت مخالف کارکن سرگئی ادالسوف نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے حکومت مخالف احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

انہوں پولیس کی جانب سے پوچھ گچھ کے لیے رپورٹ کرنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’تفتیش کاروں کو انتظار کرنا ہو گا، میں نے اپنا فیصلہ خود کر لیا ہے۔‘

حکومت مخالف ایک اور نمایاں کارکن بورس نمسوف بھی مظاہرے میں شرکت کر رہے ہیں۔

دریں اثناء بی بی سی کو ماسکو ایکو ریڈیو سٹیشن کی ویب سائٹ پر رسائی نہیں ہو رہی ہے جبکہ دیگر خبر رساں اداروں کو اخبار نوویا گیزیٹا کی ویب سائٹ تک رسائی میں مشکل کا سامنا ہے۔

ٹی وی چینل رین کے چیف ایڈیٹر میخیل ذیکار کے مطابق ان کے ٹی وی چینل کی ویب سائٹ بھی سائبر حملے کی ذد میں ہے۔