ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری

جرمنی اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان نے ایران کو نئی اور پرانی تجاویز پر مشتمل ایک پیکیج دیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجرمنی اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان نے ایران کو نئی اور پرانی تجاویز پر مشتمل ایک پیکیج دیا ہے

عراق کے دارالحکومت بغداد میں دنیا کی چھ بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان اس کے متنازع جوہری پروگرام پر مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو منعقد ہو رہا ہے۔

ان مذاکرات کا انعقاد ایران کی درخواست پر کیا گیا ہے اور بدھ کو بات چیت کے دوران فریقین کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔

ان مذاکرات میں جرمنی کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے پانچ مستقل ارکان ایران کواس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو محدود رکھے۔

گزشتہ ماہ استنبول میں اس سلسلے میں ہونے والے مذاکرات میں مشترکہ نکات پر اتنی پیش رفت ہوگئی تھی جس کی بنیاد پر بغداد میں مذاکرات کا اگلا دور طے پایا تھا۔

مذاکرات کے پہلے دور میں یورپی حکام کے مطابق چھ عالمی طاقتوں نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزدوگی کا عمل ترک کر دے تاہم ایران نے اسے اپنا وہ حق قرار دیا ہے جس پر بات چیت نہیں ہو سکتی۔

بغداد میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کسی کو اس بات چیت میں کسی ’بریک تھرو‘ کا امکان نہیں دکھائی دے رہا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک نامعلوم مغربی سفارتکار کے حوالے سے کہا ہے کہ جرمنی اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین نے ایران کو نئی اور پرانی تجاویز پر مشتمل ایک پیکیج دیا ہے جس میں اسے میڈیکل آئسوٹوپس دینے اور جوہری تحفظ کے معاملے پر تعاون کی پیشکش کی گئی ہے۔

سفارتکار کے مطابق اس کے عوض ایران کو ابتدائی طور پر یورینیم کو بیس فیصد تک افزودہ کرنے کا پروگرام بند کرنا ہوگا۔

آئی اے ای اے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنجوہری توانائی کے عالمی ادارے کے مطابق ایران کے ساتھ سمجھوتے کی خاصی امید ہے

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایران کے حکومتی اہلکاروں نے اس پیشکش کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ پیشکش متوازن نہیں ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ان کے مرکزی مذاکرات کار سعید جلیلی نے ایران کی جانب سے ’جوہری اور غیر جوہری معاملات‘ پر تجاویز کا پانچ نکاتی پیکیج پیش کیا

عالمی طاقتوں کے لیے ان مذاکرات کا مقصد ایران کو یورینیم کی افزودگی کا عمل بند کرنے اور اقوامِ متحدہ کے مبصرین کو اس کی جوہری سرگرمیوں کے پرامن ہونے کی تصدیق کرنے کی اجازت دینے پر قائل کرنا ہے۔

ادھر ایران چاہتا ہے کہ اس پر عائد وہ عالمی پابندیاں ختم کر دی جائیں جن سے اس کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

ایران کا ہمیشہ سے اصرار رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے تاہم امریکہ اور مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران اس کی آڑ میں جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔

خیال رہے کہ جوہری توانائی سے متعلق اقواِم متحدہ کے عالمی ادارے اور ایران کے درمیان ایرانی جوہری تنصیبات تک زیادہ رسائی کے معاملے پر حال ہی میں گفتگو ہوئی ہے۔