جب اسامہ آپ کے مہمان ہوں

اسامہ بن لادن

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناسامہ بن لادن کو گزشتہ برس دو مئی کو ایک امریکی کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا تھا
    • مصنف, ایم الیاس خان
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، اسلام آباد

جب آپ کسی نامعلوم مہمان کا انتظار کر رہے ہوں اور وہ دنیا کا سب سے مطلوب شخص نکلے تو کیا ہو گا۔ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے ایک برس بعد دو پاکستانیوں نے بتایا ہے کہ کس طرح سے انہیں اسامہ بن لادن کی میزبانی کا موقع ملا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں سنہ دو ہزار دس میں گرمی کےدنوں میں رات کے کھانے پر آدھا درجن کے قریب مقامی قبائلی لوگ ایک ایسے مہمان کا انتظار کر رہے تھے جن کی شناخت انہیں معلوم نہیں تھی۔

انہیں اس مہمان کی آمد کے بارے میں ایک ’اہم شخص‘نے کئی ہفتے پہلے بتایا دیا تھا لیکن کوئی نام نہیں بتایا گیا تھا۔ یہاں تک کے مہمان کے آنے کے وقت کے بارے میں بھی انہیں کچھ گھنٹے پہلے ہی بتایا گیا تھا۔

تقریبا گیارہ بجے جب آس پاس کے سب لوگ گہری نیند میں تھے انہوں نے اپنے گھر کی جانب کچھ کاروں کے آنے کی آواز سنی۔

جس خاندان نے اسامہ بن لادن کی اس دعوت کے بارے میں مجھ سے بات کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ان کے خاندان کے ایک شخص نے مجھے بتایا کہ ’ کمپاؤنڈ کے اندر تقریباً چھ بڑی جیپیں آئیں اور ان میں سے ایک بڑی گاڑی برآمدے کے قریب تک لائی گئی اور اس گاڑی کی پیچھے والی سیٹ سے ایک لمبا دبلا شخص باہر نکلا۔ اس شخص نے ڈھیلےکپڑے پہنے ہوئے تھے اور سر پر سفید صافہ تھا۔

میزبان کا انتظار کرنے والے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر پائے۔ ان کے سامنے اسامہ بن لادن کھڑے تھے۔

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکہ نے کہا تھا کہ القاعدہ کو کمزور کرنا اب آسان ہو جائے گا

خاندان کے ایک بزرگ نے بتایا ’ہم تعجب میں پڑگئے۔ اسامہ ہمارے مہمان ہوں گے ایسا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔

کچھ دیر کے لیے وہ گاڑی کے پاس کھڑے رہے اور ہاتھ ہلاتے رہے۔ بزرگ نے بتایا کہ انہوں نے اسامہ کے ہاتھوں کا بوسہ لیا اور شفقت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں پر رکھا۔

بزرگ کے مطابق کچھ دیر بعد اپنے ایک ساتھی کے کندھے پر ہلکے سے ہاتھ رکھتے ہوئے بن لادن اس کمرے کی جانب گئے جہاں ان کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ وہ اپنے کچھ مخصوص ساتھیوں کے ساتھ ہی تھے۔

یہ واقعہ اسامہ بن لادن کی گزشتہ برس دو مئی کو ہلاکت سے ٹھیک ایک برس پہلے کا ہے۔ اسامہ بن لادن کو دو مئی کو امریکہ کی جانب سے ایک خفیہ کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ان کے سابق میزبان نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے صدمے اور غم کی حالت میں اپنے ایک دوست کو ان کی اس آمد کے بارے میں بتایا تھا اور مجھے اسی طرح سے اس دعوت کے بارے میں معلوم ہوا۔

اس دعوت کے بارے میں بات کرنے کے لیے رضامند کرنے کے بعد میں ان دو افراد سے بات کرنے میں کامیاب ہوا جو اس دعوت پر موجود تھے۔ حالانکہ ان کی شرط تھی کہ ان کے نام اور پتے شائع نہیں کیے جائیں گے۔

ان افراد نے مجھے بتایا کہ اسامہ نے جو تین گھنٹے ان لوگوں کے ساتھ گزارے اس دوران انہوں نے نماز ادا کی، آرام کیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ دعوت میں پیش کیا گیا گوشت اور چاول کھائے۔

اسامہ کی موجودگی کے دوران میزبانوں کو کمپاؤنڈ چھوڑ کر جانے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی کسی کو اندر آنے کی اجازت تھی۔

کمپاؤنڈ کی چھت، دیواروں اور داخلی دروازے پر سکیورٹی تعینات کی گئی تھی۔

اس وقت سکیورٹی گارڈز تھوڑا پریشان ہوگئے تھے جب ایک میزبان نے درخواست کی کہ ان کے پچاسی سالہ والد اسامہ بن لادن سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے درخواست کی ’اسے مرنے سے پہلے ان کی آخری خواہش سمجھیں‘۔ یہ پیغام اسامہ تک پہنچایا گیا۔ انہوں نے اس ملاقات پر رضامندی کا اظہار کیا۔

چار مسلح سکیورٹی گارڈ پچاسی سالہ شخص کے بیٹے کے ساتھ انہیں لینے گئے۔ اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں اس پچاسی سالہ شخص کو تبھی بتایا گیا جب وہ کمپاؤنڈ پہنچ گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ بزرگ شخص نے بن لادن کے ساتھ دس منٹ گزارے۔ اس دوران یہ بزرگ اسامہ بن لادن کی تعریف کرتے رہے اور انہوں نے اسامہ کو یہ پیش کش کی کہ وہ قبائلی جنگ کے بارے میں اگر کچھ بھی صلح مشورہ چاہتے ہیں تو ان کی مدد لیں۔ بزرگ پشتو زبان میں بات کر رہے تھے جو اسامہ کو زیادہ سمجھ میں نہیں آئی۔

اسامہ کی گاڑیاں اسی طرح سے گئیں جیسے آئی تھیں، کمپاؤنڈ سے نکل کر گاڑیاں مختلف سمت میں چلی گئیں جس سے میزبان کو یہ نہیں معلوم ہوا کہ اسامہ کسی طرف گئے۔

حالانکہ جن میزبانوں سے میں نے اسامہ کی اس دعوت کے بارے میں بات کی انہوں نے مجھے اس دورے کے بارے میں کافی تفصیل سے بتایا حالانکہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ ' اہم شخص' کون تھا جس نے ان سے اسامہ بن لادین کی میزبانی کرنے کے لیے کہا تھا۔ انہوں نے اس بارے میں بھی بتانے سے گریز کیا کہ اسامہ کے قافلے میں اور کون کون شامل تھا۔

اسامہ کی ہلاکت کے ایک برس بعد پاکستان اور امریکہ دونوں ممالک کے اہلکار اس بات پر زور دیتے رہے کہ القاعدہ کے رہنما پانچ برس کے دوران ایک مرتبہ بھی ابیٹ آباد میں واقع اپنے گھرسے باہر نہیں گئے تھے۔

اسامہ کی اس دعوت کے واقعے کے بعد بہت سارے سوال اٹھتے ہیں۔

جس جگہ وہ دعوت پر آئے تھے وہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں شدت پسندوں کے خلاف کئی آپریشن جاری ہیں اور وہاں کئی مقامات پر سکیورٹی چیک پوائنٹس ہیں جنہیں احکامات ہیں کہ وہ ہر آنے جانے والی گاڑی پر نظر رکھیں۔

اسامہ ان سکیورٹی چیک پوانٹس سے کیسے گزرے؟

پاکستانی حکام ہمیشہ اس بات سے انکار کرتے رہے ہیں کہ انہیں اسامہ کی موجودگی کے بارے میں کسی بھی طرح کی معلومات تھیں، وہ اس بات سے بھی انکار کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کو کبھی کوئی مدد فراہم کی۔

ایک سوال یہ بھی کہ وہ شخص کون تھا جو یہ فیصلہ کرتا تھا کہ اسامہ کب کیا کریں گے، کہاں جائیں گے۔ ان کی اس دعوت اور دورے کا مقصد کیا تھا اور سب سے اہم سوال یہ کہ اسامہ کتنی مرتبہ آدھی رات کو اس طرح کے دورے کرتے تھے۔