’دھمکیوں کے بعد امریکی سفارتخانہ چھوڑا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
چینی کارکن شین گوانشین نے کہا ہے انہوں نے بیجنگ میں واقع امریکی سفارتخانے میں ایک ہفتہ پناہ لینے کے بعد چینی حکام کی جانب سے ان کے خاندان کو دی جانے والی دھمکیوں کے بعد امریکی سفارتخانہ چھوڑ دیا ہے۔
اس سے پہلے انہوں نے اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے دی جانے والی یقین دہانیوں پر یقین کر لیا تھا تاہم اب ان کا کہنا ہے انہیں اپنے خاندان کی فکر ہے اور وہ چین سے چلے جانا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ اسے شین گوانشین کو چین کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے بارے میں علم نہیں تاہم گوانشین نے ابھی تک پناہ لینے کے لیے نہیں کہا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن اعلٰی سطح کے مذاکرات کے لیے چین پہنچی ہیں۔
شین گوانشین نے اپنے گھر میں نظربندی سے بچنے کے لیے امریکی سفارتخانے میں ایک ہفتہ قبل پناہ حاصل کی تھی۔
شین گوانشین کے معاملے کی وجہ سے اعلٰی سطح کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران شام اور تجارت جیسے اہم معاملات کے پس منظر میں جانے کا خطرہ تھا۔
اس سے پہلے ان کے وکیل نے کہا تھا کہ وہ بیجنگ سے کلیرنس ملنے کے بعد خوش ہیں۔
امریکی حکام گوانشین کے ہمراہ بیجنگ کے ہسپتال گئے جہاں انہوں نے اپنے اہلیہ اور دو بچوں سے ملاقات کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بعد میں بتایا کہ امریکی حکام نے اس موقع پر گوانشین سے ان کی اہلیہ اور بچوں کو ملنے والی جسمانی یا قانونی دھمکیوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی چینی حکام نے ہمیں دھمکیاں دیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چینی حکام نے ہمیں اشارتاً بتایا کہ گوانشین کے خاندان کو واپس شینڈاگ بھیج دیا جائے گا اور وہ ایک ساتھ رہنے کے لیے ہونے والے مزاکرات کا عمدہ موقع کھو دیں گے۔
بیجنگ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مچل برسٹو کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے امریکی اور چینی حکام نے کہا تھا کہ گوانشین بیجنگ میں امریکی سفارتخانے میں ایک ہفتہ پناہ لینے کے بعد اپنی مرضی سے وہاں سے چلے گئے تھے۔
واضح رہے کہ شین گوانشین نے جب سے جبراً اسقاط حمل اور نس بندی کے خلاف مہم شروع کی تھی اس وقت ہی سے مقامی کارکنان اور مغربی ممالک کی نظر ان پر تھی۔
شین گوانشین بچپن میں ہی نابینا ہوگئے تھے۔ انہوں نے باقاعدہ طور پر وکالت کی تعلیم حاصل نہیں کی ہے کیونکہ چین میں نابیناؤں کو کالج میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔
شین گوانشین حکومت کی ایک بچے والی پالیسی کے سبب ہونے والے استحصال سے متعلق حقائق پیش کرتے رہے ہیں اور صوبۂ شینڈاگ کے اہلکاروں پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہاں کم از کم سات ہزار خواتین کے جبراً اسقاط حمل اور نس بندی کی گئی ہے۔







