دمشق ’خود کش حملے‘ میں دس ہلاک، بیس زخمی

دمشق

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندھماکے میں سکیورٹی اہلکار اور عام شہری ہلاک ہوئے ہیں

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق دارالحکومت دمشق کے مرکز میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم از کم دس افراد ہلاک اور بیس کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ ایک ’خود کش حملہ‘ تھا جو کہ میدان کے علاقے میں ایک مسجد کے قریب ہوا۔ تاہم حزبِ مخالف کے سرگرم کارکن اس کا ذمہ دار حکومت کو گردانتے ہیں۔

یہ دھماکہ اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کے اس بیان کے بعد ہوا ہے جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ حکومت ’اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے حمایت یافتہ امن منصوبے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔‘

بان کی مون نے شام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خصوصی ایلچی کوفی عنان کے امن منصوبے پر بغیر کسی تعطل کے عمل کرے۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق میدان میں ہونے والے اس دھماکے میں عام شہری اور سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جو کہ ٹی وی کے مطابق اس وقت پیش آیا جب لوگ قریبی مسجد زین العابدین میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد باہر نکل رہے تھے۔

شام کی وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جو لوگ عام شہریوں کو دہشت زدہ کر رہے ہیں ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔‘

میدان میں اکثر حکومت مخالف مظاہرے ہوتے ہیں۔ جنوری میں اسی ڈسٹرکٹ میں ہونے والے ایک دھماکے میں کم از کم چھبیس افراد ہلاک اور تریسٹھ زخمی ہو گئے تھے۔

اس سے قبل جمعہ ہی کو دمشق کے صنعتی علاقے میں بھی ایک دھماکہ ہوا تھا۔ لیکن ابھی تک یہ نہیں پتہ چل سکا کہ اس میں کوئی ہلاک یا زخمی ہوا تھا۔

دریں اثناء حزبِ مخالف کے سرگرم کارکنان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شام کے کئی حصوں میں حکومت مخالف مظاہرین پر فائرنگ کر کے کم از کم تین افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

برطانیہ میں ایک قائم غیر سرکاری تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ایک شخص دمشق کے نواح میں ہلاک کیا گیا، دوسرا الیپو شہر میں اور تیسرا مشرقی شہر دیر الزور میں۔ حکومت کی طرف سے میڈیا پر پابندیوں کی وجہ سے ان اطلاعات کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔