’اردن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی‘

،تصویر کا ذریعہHRW
انسانی حقوق کے ایک عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اردن میں حکام عوام کے اظہارِ رائے کی خلاف ورزی اور اصلاحات کی کوششوں پر عوامی اعتماد کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی بین الاقومی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ جراسا نیوز ویب سائٹ کے پبلشر اور ایک صحافی پر الزام لگایا گیا کہ وہ سرکاری نظام کو نقصان پہنچا رہے تھے۔
یہ الزامات اُس مضمون کے بعد لگائے گئے تھے جس میں اردن کے بادشا شاہ عبداللہ کی جانب سے بدعنوانی کے ایک کیس کی تحقیقات کے دوران مبینہ مداخلت کی نشاندہی کی گئی تھی۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اردن میں یہ اس طرح کا پانچواں واقعہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ سحرالمحتسب اور جمال المحتسب دونوں بھائی جراسا نیوز کے لیے کام کرتے تھے اور ان پر تئیس اپریل کو الزامات عائد کیے گئے۔
ان دونوں بھائیوں نے ایک مضمون پر کام کیا جس میں پارلیمنٹ کے ایک رکن کا حوالہ دیا گیا تھا جس نے کہا تھا کہ شاہ عبداللہ نے پارلیمانی کمیٹی کو ہدایات جاری کیں تھیں کہ بدعنوانی کے الزامات کے تحت ایک سابق وزیر کا کیس عدالت نہ بھیجا جائے۔
استغاثہ نے دونوں بھائیوں پر ریاست میں سرکاری نظام کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا اور یہ ایسا الزام ہے جو اردن کے فوجداری قوانین کی شق ایک سو اننچاس کے زمرے میں آتا ہے اور اس میں قیدِ بامشقت کی سزا ہو سکتی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مشرقِ وسطٰی کے سینئر تحقیق کار کرسٹوف وِلکے کا کہنا ہے ’جب ایک جانب صحافیوں کو ان کے فرائض کی انجام دہی سے روکا جا رہا ہو تو ایسی صورتحال میں اردن جمہوری اصلاحات متعارف کرانے کا دعوٰی نہیں کرسکتا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے جنوری میں ایک شخص پر شاہ عبداللہ کا پوسٹر نذرِ آتش کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ فروری میں ایک سابق پارلیمانی رکن پر جمہوری طرز کی حکومت تشکیل دیے جانے کے موقف کا پرچار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ مارچ میں احتجاج کرتے ہوئے دو مختلف گروپوں کے شرکاء کو عمان میں گرفتار کیا گیا تھا۔







