کابل: حملہ آوروں کے خلاف کارروائی مکمل

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل میں سکیورٹی فورسز کی طالبان کے خلاف گزشتہ اٹھارہ گھنٹے سے زائد جاری کارروائی مکمل ہو گئی ہے۔
کابل پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پیر کی صبح کابل کے مغرب میں واقح پارلیمان کے قریب آخری حملہ آور کو ہلاک کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق ان جھڑپوں میں سترہ شدت پسند اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا ہے۔
افغانستان میں طالبان نے اتوار کو کابل میں حملوں کے دوران مغربی ممالک کے سفارتخانے، نیٹو کے صدر دفاتر اور افغانستان کی پارلیمان کو نشانہ بنایا تھا۔
حملہ آوروں نے افغانستان کے پکتیا، لوگر اور ننگرہار کے صوبوں کو بھی نشانہ بنایا اور ان حملوں کو ’موسم بہار‘ کی کارروائی کا آغاز قرار دیا۔
یہ گزشتہ چھ ماہ میں کابل شہر میں ہونے والا پہلا بڑا حملہ تھا۔
کابل میں آخری بار اس سطح کا حملہ ستمبر سن دو ہزار گیارہ میں ہوا تھا اور اس واقعے میں چودہ افغان ہلاک ہوئے تھے۔
اتوار کو ہونے والے ان حملوں میں ایک نشانہ برطانوی سفارتخانہ بھی تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دو راکٹ اس کے گارڈ ٹاور میں لگے جبکہ ایک سفارتکار کے گھر کو دستی بم سے نشانہ بنایا گیا۔
کابل میں واقع پارلیمنٹ کے قریب بھی دھماکے ہوئے اور روسی سفارتخانے پر بھی راکٹ داغے گئے۔
اس کے علاوہ جرمن سفارتخانے سے دھواں اٹھتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا۔
امریکی سفارتخانے نے ایک بیان میں سفارتخانے کے قریب حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سفارتخانے کو بند کردیا گیا ہے اور تمام عملہ محفوظ ہے۔‘
دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کابل میں تعمیر کیے گئے نئے کابل سٹار ہوٹل میں آگ لگ گئی تھی۔
افغانستان کے رکن پارلیمان نعیم حمیدزئی نے بتایا کہ کئی ارکان پارلیمان نے بھی حملہ آوروں کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ خبر رساں ایجنسی اے پی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے چار سو سے پانچ سو گولیاں فائر کیں۔







