’کارروائی میں تاخیر قابلِ برداشت نہیں‘

نتن یاہو

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن’ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیے جائیں گے‘

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے متنبہ کیا ہے کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف کارروائی میں مزید تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے اسرائیل کے چینل ٹو کو بتایا کہ ان کے پاس سٹاپ واچ نہیں ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دنوں یا ہفتوں کی بات نہیں ہے تاہم یہ سالوں کی بات بھی نہیں ہے‘۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خطرے کو ہر صورت ختم کرنا ہوگا۔

نیتن یاہو نے چینل ٹو کو مزید بتایا کہ انہیں امید ہے کہ ایران پر ڈالا جانے والا دباؤ کام کرے گا اور ہم پر امن طریقے سے اسے اس بات پر قائل کر لیں گے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو ختم کر دے۔

انہوں نے کہا کہ وہ امریکی صدر براک اوباما کی پوزیشن کو سمجھتے ہیں تاہم امریکہ ایک بڑا ملک ہے اور وہ ایران سے کافی فاصلے پر واقعہ ہے جبکہ اسرائیل ایک چھوٹا ملک ہے اور ہم ایران کے قریب ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ’ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیے جائیں گے اور میں ایسا نہیں ہونے دوں گا‘۔

واضح رہے کہ بنیامن نیتن یاہو حال ہی میں امریکہ کا دورہ کر کے واپس آئے ہیں جہاں انہوں نے امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں اوباما نے انہیں کہا تھا کہ ایران کا مسئلہ سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے اب بھی وقت ہے۔

اسرائیل ممکنہ طور پر تین راستوں سے ایران کے خلاف فضائی کارروائی کر سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناسرائیل ممکنہ طور پر تین راستوں سے ایران کے خلاف فضائی کارروائی کر سکتا ہے

ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے تاہم متعدد مغربی ممالک اور اسرائیل کا موقف ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو چھ بڑی عالمی طاقتوں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین نے ایک بیان میں ایران سے استدعا کی تھی کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے غیرمشروط ’سنجیدہ مذاکرات‘ کا آغاز کرے جس کے ٹھوس نتائج برآمد ہوں۔

ان ممالک نے ایران سے کہا تھا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنے پراچین کمپلیکس کا دورہ کرنے کی اجازت دے۔

اقوامِ متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے میں منعقدہ اجلاس میں سفارتکاروں نے ایران کے ایک فوجی مرکز کے بارے میں بھی خدشات ظاہر کیے تھےکہ وہاں جوہری سرگرمیوں کے ثبوت چھپانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیل کی ایک حمایتی لابی سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے امریکہ طاقت کے استعمال سے جھجکے گا نہیں لیکن سفارتکاری اب بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔