’اسرائیل اب مزید انتظار نہیں کر سکتا‘

،تصویر کا ذریعہAFP

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے وقت نکلا جا رہا ہے۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں اسرائیل کی حامی لابی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کے شہریوں کو ’تباہی کے سائے‘ میں زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی قیاس آرائیوں پر اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل اب بہت زیادہ انتظار نہیں کر سکتا۔

دریں اثناء امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے اب بھی وقت ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی سے پیر کی رات خطاب کرتے ہوئے کہا اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا ’بد قسمتی سے ایران کا جوہری پروگرام جاری ہے۔ ہم نے سفارت کاری کے ذریعے اس مسئلے کا انتظار کیا، ایران کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کا انتظار کیا تاہم اب مزید انتظار نہیں کیا جائے گا۔‘

وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل کا وزیرِاعظم ہونے کے ناطے وہ اپنے شہریوں کو کبھی بھی ’تباہی کے سائے‘ میں زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہودی ریاست کسی کو بھی اسے برباد کرنے کی اجازت نہیں دے گی، ایران کے جوہری پروگرام کو ہر صورت روکنا ہو گا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کی اور کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات دیرپا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اب بھی امید ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارت کاری کے ذریعے حل ہو سکتا ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ تمام آپشز پر غور کرے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے صدر اوباما سے کہا کہ اسرائیل کے پاس اپنا دفاع خود کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔

اس موقع پر امریکی صدر باراک اوباما نے کہا وہ اور بنیا من نیتن یاہو اس مسئلے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر ترجیح دیں گے۔

اوباما کے مطابق ’ہم کسی بھی فوجی کارروائی کے ذریعے ہونے والے نقصان کو سمجھتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے اتوار کو اسرائیلی لابی کی کانفرنس میں کہا تھا کہ جنگ کے حوالے سے بیانات بند ہونے چاہییں کیونکہ ان کا فائدہ صرف ایران کو ہو رہا ہے۔