عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ

،تصویر کا ذریعہx

دنیا میں خام تیل پیدا کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب میں تیل کی ایک پائپ لائن کے پھٹنے کی اطلاع کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تینتالیس ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

جمعرات کو نیویارک میں تیل کی قیمت پانچ اعشاریہ سات چار ڈالر اضافے کے ساتھ بڑھ کر ایک سو اٹھائیس اعشاریہ چار صفر ہو گئی جو جولائی دو ہزار آٹھ کے بعد سے بلند ترین قیمت ہے۔

سعودی حکام نے تیل کی پائپ لائن پھٹنے کی اطلاع تردید کی ہے اور کوشش میں ہے کہ ایشیا میں تیل کی قیمتوں کو نیچے لایا جائے۔

خال تیل کی قیمتیں بڑھنے کی ایک وجہ ایران کے جوہری منصوبے اور علاقائی عدم استحکام کو قرار دیا جا رہا ہے۔

جمعرات کو خام تیل کی قیمت گزشتہ سال لیبیا کی خانہ جنگی کے مقابلے میں بلند ترین سطح پر دیکھی گئی۔

جمعہ کی صبح خام تیل کی قیمت ایک سو پچیس اعشاریہ چار نو فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ایرانی میڈیا میں جمعرات کو سعودی عرب میں تیل کی ایک پائپ لائن پھٹ جانے کی اطلاع آنے کے بعد خام تیل کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

واضح رہے کہ امریکہ نے ایران کے تیل برآمد کرنے پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں جبکہ یورپی یونین نے بھی ایران سے تیل خریدنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

ایران نے مغرب ممالک کی جانب سے اس پر مزید پابندیاں عائد کیے جانے کی صور ت میں خیلج میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روکنے کی دھمکی دی تھی۔

خیال رہے کہ خلیج فارس کے اس اہم بحری راستے سے دنیا بھر کی تیل کی ضروریات کا بیس فیصد حصہ گزرتا ہے۔

ایران اس وقت دنیا میں تیل کی کل پیداوار کا پانچ فیصد پیدا کرتا ہے۔