ڈالر نہیں تو سونا بھی قبول: ایران

،تصویر کا ذریعہAP

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران تیل کی قیمت ڈالر کی بجائے سونے کی شکل میں وصول کرے گا۔

ایران نے یہ فیصلہ یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے اس پر لگائی گئی پابندیوں کے بعد کیا ہے جس کے باعث تیل کے خریداروں کو ڈالر میں قیمت ادا کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایران کے سینٹرل بینک کے سربراہ محمود باہمانی نے کہا ہے کہ ایران کو تیل کی قیمت سونے میں وصول کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

واضح رہے کہ یورپی یونین نے ایران سے تیل خریدنے کی پابندی کی منظوری دی ہے۔ اس پابندی کے نتیجے میں یکم جولائی سے یورپی یونین کے ممالک کی کوئی کمپنی بھی ایران سے تیل نہیں خرید سکتی۔ اس وقت ایران کے تیل کی فروخت کا بیس فیصد یورپی یونین خریدتا ہے۔

تاہم ایرانی تیل کا سب سے بڑے خریدار چین کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے تیل خریدتا رہے گا۔ بھارت بھی ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کا اعلان کر چکا ہے۔

دوسری جانب دبئی کے نور اسلامک بینک نے بدھ کو کہا ہے کہ پچھلے سال دسمبر سے ایرانی مالیاتی اداروں کے ساتھ کاروبار کرنا بند کر دیا ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ قدم امریکہ کی جانب سے عائد پابندیوں کے بعد اٹھایا ہے۔