افغانستان مصالحت، کرزئی، اوباما بات چیت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

امریکی صدر براک اوباما نےافغان صدر حامد کرزئی سے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں اور اسلام آباد میں پاکستان ، ایران اور افغانستان کے رہنماؤں کے مابین ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ صدر اوباما نے ٹیلیفون پر افغان صدر سے افغانستان میں مصالحت کے حوالے سے علاقائی ممالک کی حمایت کے بارے میں بات چیت کی ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان کے تین روزہ دورے کے دوران پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے علاوہ طالبان کےحامی مذہبی رہنما مولانا سمیع الحق سے بھی ملاقات کی تھی۔

امریکی اور افغان صدر کے مابین بات چیت ایسے وقت ہوئی ہے جب افغان صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ، افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

طالبان نے مذاکرات کے حوالے سے افغان صدر کے بیان کو مسترد کر دیا تھا۔ البتہ امریکہ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان سے رابطے انتہائی ابتدائی نوعیت کے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق گفتگو کے دوران صدر کرزئی نے افغانستان میں مصالحت کے عمل کو علاقائی ممالک کی حمایت کے حوالے سے آگاہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے جلد دوبارہ بات چیت کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان کے صدر نے اسلام آباد کے دورے کے دوران کہا تھا کہ علاقائی مسائل بیرونی مداخلت سے پیدا ہوئے ہیں۔

امریکہ نے دو ہزار چودہ میں افغانستان سے اپنی فوجوں کو واپس بلانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

امریکہ کا موقف ہے کہ وہ ان طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لیے تیار ہے جو القاعدہ سے اپنا تعلق ختم کرنے کا اعلان کریں اور مسلح جہدو جہد سے توبہ کر لیں۔