حملے خود اسرائیل نے کروائے ہیں، ایران

،تصویر کا ذریعہ
ایران نے اسرائیل کے اس الزام کی تردید کی ہے جس میں بھارت اور جارجیا میں اسرائیلی سفارت خانوں کے باہر بم دھماکوں کے لیے ایران کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملے خود اسرائیل نے کروائے ہیں۔
ایران کا موقف ہے کہ اسرائیل ایسا کر کے ان ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات خراب کرنا چاہتا ہے۔
دلی میں پیر کی دوپہر اسرائیلی سفارت خانے کے باہر ایک سفارتکار کی گاڑی میں دھماکہ ہوا جس میں دو افراد زخمی ہوئے تھے۔
دلی اور جارجیا کے شہر تبلسي میں دھماکے تقریباً ایک ہی وقت پر ہوئے۔
ان دھماکوں کی ذمہ داری اسرائیل نے ایران پر عائد کی تھی۔ ایران کے وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کا ماحول بنانے کے لئے یہ حملے کروائے ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ’ایران دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے اور وہ خود اس کا شکار رہا ہے۔‘
اسی دوران دلی کے پولیس کمشنر بي كے گپتا نے کہا کہ ’کار کو کسی آلے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جس کے بعد اس میں دھماکہ ہوا اور آگ لگ گئی۔ زیادہ تر نقصان آگ لگنے سے ہوا ہےگ ایسا لگتا ہے کہ گاڑی میں جو کچھ بھی لگایا گیا یا چپکایا گیا وہ پیچھے کی طرف لگایا گیا تھا۔‘
وہیں بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے’بھارت اس کی مذمت کرتا ہے۔ واقعہ کی تحقیقات شروع ہو گئی ہیں اور قانون اپنا کام کرے گا۔ قصورواروں کو پکڑا جائے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واقعے کے بعد دلی میں چین اور امریکہ کے سفارت خانے کے قریب حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
اسرائیلی حکام نے بتایا ہے کہ جارجیا میں بھی ایک سفارتکار پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن دھماکہ نہیں ہوا۔
ان حملوں کی خبر ملنے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن تیتن ياہو نے کہا کہ ’ان حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ دنیا میں وہی دہشت گردی کو سب سے فروغ دینے والا ملک ہے۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں اسرائیلیوں اور یہودیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس میں ایران اور لبنان کے گروپ حزب اللہ کا ہاتھ ہے۔
بھارت میں ایران کے سفیر سید مہدی نبي ذادہ پہلے ہی ان حملوں میں ملوث ہونے کے اسرائیلی الزام کو مسترد کر چکے ہیں۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے نبي ذادہ کے حوالے سے کہا ’ایران کسی بھی طرح کے دہشت گرد حملے کی مذمت کرتا ہے اور اسرائیلی حکام کے جھوٹے تبصروں کو ہم پوری طرح مسترد کرتے ہیں۔‘
ادھر امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا ’امریکہ دنیا بھر میں سفارت کاروں کی سیکورٹی کو ترجیح دیتا ہےگ ہم ان حملوں کی تحقیقات میں ہر طرح کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔‘







