تیل کی برآمد پر یورپی یونین کی پابندیاں ’ناجائز‘ ہیں: ایران

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایران نے کہا کہ یورپی یونین کی طرف سے ایران سے تیل خریدنے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ’ناجائز‘ ہے اور یہ ’ناکام ثابت ہوگا‘۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رامن مہمانپرست نے کہا کہ یہ اقدام ایران کو اس کے بنیادی حق کے حصول سے نہیں روک سکےگا۔
یہ پابندیاں ایران کے ساتھ تیل برآمد کرنے کے نئے معاہدوں کو ختم کرتی ہیں اور یورپی یونین میں ایران کے سینٹرل بینک کے اثاثے منجمد کرتی ہیں۔
آج کل یورپی یونین ایران کی برآمد کردہ تیل میں سے تقریباً بیس فیصد تیل خریدتی ہے۔
ان پابندیوں کے تحت ایران سے تیل برآمد کے تمام نئے معاہدے ختم کر دیے جائیں گے جبکہ موجودہ معاہدے کا احترام صرف رواں سال یکم جولائی تک کیا جائے گا۔
یورپی یونین نے ایران پر پابندیاں اس کے جوہری پروگرام کے باعث عائد کی ہیں۔ دوسری جانب ایران نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے کا حل پابندیاں نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’یورپی یونین کے اہلکار اور وہ دوسرے ممالک جو امریکہ کے سیاسی دباؤ میں ہیں ۔۔۔ اپنے قومی مفاد سامنے رکھیں اور امریکی حکام کے خفیہ ارادوں کی تکمیل میں مدد دینے کے لیے اپنے آپ کو ایران کے تیل سے محروم نہ کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہIRNA
واضح رہے کہ رواں سال کے شروع میں اقوامِ متحدہ نے تصدیق کی تھی کہ ایران نے اپنے زیرِ زمین پلانٹ میں یورینیم کی بیس فیصد افزودگی شروع کردی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فی الوقت ایران کی تیل برآمدات میں بیس فیصد حصہ یورپی یونین کا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یورپی یونین ایران کے خلاف یہ پابندی رواں ہفتے سے ہی لاگو کر سکتی ہے۔
اس سے قبل یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا تھا کہ پابندیوں کا مقصد ایران کو اس مسئلے کے بارے میں بات چیت کرنے پر رازی کرنا ہے۔
ایران میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کے مطابق ایران کا سب سے قیمتی اثاثہ تیل ہے جس کی فروخت کے ذریعے ایرانی حکومت کے اخراجات پورے ہو رہے ہیں۔ یورپی یونین کے اس فیصلے سے ایرانی معیشت کو نقصان تو پہنچے گا لیکن برباد نہیں ہوگی۔
ایران زیادہ تر تیل ایشیائی ممالک کو بیچتا ہے لیکن امریکہ اور یورپی یونین اب یہ کوشش کر رہے ہیں کہ یہ ممالک ایران سے تیل خریدنا کم کر دیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
واضح رہے کہ یورپی یونین کا یہ فیصلہ اگرچہ ابھی تک نافذ نہیں ہوا لیکن تیل کی قیمتیں ابھی سے جاری تناؤ کی وجہ سے بڑھ گئی ہیں۔







