نائجیریا میں مزید ہلاکتیں

،تصویر کا ذریعہAFP
شمالی نائجیریا میں تشدد کے نئے واقعات میں اتوار کو آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل کانو میں جمعہ کو بم دھماکوں میں تقریباً ایک سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اتوار کو تشدد کے تازہ ترین واقعے میں باشی ریاست میں ایک پولیس سٹیشن پر حملہ کیا گیا جس کے بعد حملہ آوروں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔
جمعہ کو کانوں میں بم دھماکوں کے بعد ملک کے نائب صدر نمادی سمبو متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
کانو کے مربوط اور سلسلہ وار بم دھماکوں میں کم از کم پانچ پولیس سٹیشنوں اور کئی حکومتی دفاتر کو نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ دھماکوں کے دوران شہر کے مختلف حصوں میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی تھیں۔
ملک کے شمال میں مسلم اکثریتی علاقوں میں یہ گروپ حالیہ دنوں میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ مقامی زبان میں ’بوکو حرام‘ کے معنی ’مغربی تعلیم حرام‘ کے ہیں۔
کانو کے مرکزی ہسپتال کے مردہ خانے کا دورہ کرنے والے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت کی جانب سے دیے گئے اعدادوشمار سے کہیں زیادہ لاشیں دیکھی ہیں جبکہ ہسپتال میں زخمیوں کا آمد کا سلسلہ بھی جاری تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ہونے والے حملوں کے بعد کانو میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو لگایا گیا ہے۔ شہر کی سڑکوں پر پولیس اور فوج نے رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ ان حملوں میں چار پولیس سٹیشنوں، پولیس ہیڈ کوارٹر اور پاسپورٹ آفس کو نشانہ بنایا گیا ہے‘۔ پولیس ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے میں قریبی عمارتوں میں رہنے والے غیر ملکی بھی زخمی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر بھارتی اور لبنانی باشندے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے ترجمان ابوالقاقا نے شمال مشرقی شہر میدوگوری میں واقع تنظیم کے ہیڈکوارٹر پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گروپ نے یہ حملے حکام کی جانب سے کانو میں تنظیم کے گرفتار اراکین کو رہا کرنے سے انکار پر کیے۔
یہ گروپ نائجیریا میں اسلامی قوانین نافذ کرنا چاہتا ہے۔ بوکو حرام کے رہنماء محمد یوسف کی سنہ دو ہزار نو میں پولیس حراست میں ہلاکت کو بھی سرکاری عمارتوں پر حملے کرنے کی وجہ بتایا جاتا ہے۔







