’حادثہ کپتان کی ممکنہ غلطیوں کا نتیجہ‘

اس بحری جہاز پر چار ہزار سے زائد افراد سوار تھے

،تصویر کا ذریعہn

،تصویر کا کیپشناس بحری جہاز پر چار ہزار سے زائد افراد سوار تھے

اٹلی میں جمعہ کو زیرِ آب چٹانوں سے ٹکرا کر ڈوبنے والے بحری جہاز کی مالک کمپنی کا کہنا ہے کہ حادثہ ممکنہ طور پر جہاز کے کپتان کی ’غلطیوں کا نتیجہ تھا‘۔

کوسٹا کورسیر نامی کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بظاہر کپتان جہاز کو ساحل کے زیادہ قریب لے گیا اور اس نے کمپنی کے ہنگامی حالات کے لیے مروجہ قواعد پر بھی عمل نہیں کیا۔

اطالوی پولیس نے پہلے ہی جہاز کے کپتان فرانسسکو شیٹینو کو قتلِ غیر عمد کے الزام میں حراست میں لیا ہوا ہے جبکہ وہ اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔

جنوبی اٹلی میں جزیرہ گگلو کے ساحل کے نزدیک پیش آنے والے اس حادثے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پندرہ تاحال لاپتہ ہیں۔

تفریحی سفر کے لیے استعمال ہونے والے اس بحری جہاز پر چار ہزار سے زائد افراد سوار تھے جن میں سے بیشتر حادثے کے بعد لائف بوٹس کی مدد سے یا تیر کر کنارے تک پہنچ گئے تھے۔

جہازراں کمپنی کا کہنا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ کمانڈر نے اندازہ لگانے میں غلطی کی جس کے سنگین نتائج سامنے آئے‘۔

امدادی کارکن اتوار کے روز بھی لا پتہ مسافروں کو ڈھونڈتے رہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامدادی کارکن اتوار کے روز بھی لا پتہ مسافروں کو ڈھونڈتے رہے

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہاز جس راستے پر چل رہا تھا وہ ساحل سے زیادہ ہی قریب تھا اور یہ کہ کپتان نے جس طرح ہنگامی صورتحال کا سامنا کیا وہ کمپنی کے قواعد کے مطابق صحیح نہیں تھا۔

اس سے قبل اتوار کو امدادی عملے نے جہاز سے دو مزید لاشیں برآمد کیں جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد پانچ تک پہنچ گئی۔

یہ لاشیں دو عمر رسیدہ مردوں کی ہیں جن کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی جبکہ بقیہ مرنے والوں میں دو فرانسیسی مسافر اور پیرو سے تعلق رکھنے والےعملے کا ایک رکن شامل ہیں۔

اس کے علاوہ امدادی عملے نے جہاز کے نچلے عرشے سے کوریا سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کو زندہ نکالا ہے جبکہ اس کے چند گھنٹے بعد مزید ایک اور زندہ شخص کو جہاز پر سے ہیلی کاپٹر کی مدد سے ہسپتال لے جایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ شخص جہاز کے عملے کا سینیئر رکن تھا اور اس کی ٹانگ شدید زخمی تھی۔