ایران سے ڈرون کی واپسی کا امریکی مطالبہ

،تصویر کا ذریعہh
امریکہ نے ایران سے رواں ماہ کے آغاز میں ایرانی حدود میں اتارے جانے والے جاسوس طیارے کی واپسی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے پیر کو واشنگٹن میں اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ خفیہ انٹیلیجنس معاملات پر تبصرہ تو نہیں کر سکتے لیکن تصدیق کر رہے ہیں کہ ’ہم نے اس (ڈرون) کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ ایرانی کیا جواب دیتے ہیں‘۔
اس سے قبل پیر کو ہی ایرانی پارلیمان کی سکیورٹی کمیٹی کے رکن نے دعوٰی کیا تھا کہ عسکری ماہرین اس ڈرون سے معلومات کے حصول کے آخری مراحل میں ہیں۔
پرویز سروری کا کہنا تھا کہ اس ڈرون سے حاصل شدہ معلومات کو امریکہ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ایرانی حکام نے گزشتہ ہفتے امریکی جاسوس طیارے آر کیو 170 کی تصاویر ٹی وی پر نشر کی تھیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس طیارے کے الیکٹرانک نظام پر قابو پا کر اسے اتارا جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ طیارہ فنی خرابی کی وجہ سے ایرانیوں کے ہاتھ لگا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے تسلیم کیا ہے کہ ایرانیوں کی جانب سے ڈرون کی واپسی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنے لاپتہ جہاز کی واپسی کی باقاعدہ درخواست کر دی ہے جو کہ ایسے کسی حالات میں ہمیں کرنی ہی تھی۔ لیکن ایران کے اب تک کے رویے کو مدِنظر رکھا جائے تو ہمیں امید نہیں کہ وہ اس کا جواب دیں گے‘۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ ڈرون طیارہ افغانستان کی جانب سے ایرانی علاقے میں داخل ہوا تھا اور ایران حدود میں ڈھائی سو کلومیٹر اندر آ چکا تھا جب اسے سائبر حملہ کر کے نیچے اتارا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران یا اس کے اتحادی اس طیارے کی ریڈار پر نظر نہ آنے کی صلاحیت کو سمجھ سکتے ہیں، یا پھر اس کے انجن ، کنٹرول سسٹم، سنسرز اور کیمروں کی نقل تیار کر سکتے ہیں۔







