سیف الاسلام کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
لیبیا کے جنوبی علاقے سے سیف الاسلام کی گرفتاری نے اس شخص کے تین ماہ کے فرار کا خاتمہ کر دیا جس ایک زمانے میں معمر قذافی کا جانشین سمجھا جاتا تھا۔
ليبيا کي حکومت میں کسی سرکاری عہدے پر نہ ہوتے ہوئے بھی سیف الاسلام کو ملک کی دوسری سب سے طاقتور ہستي مانا جاتا تھا۔
یہی نہیں بلکہ کرنل معمر قذافی کے خلاف بغاوت تک شاندار انگریزی بولنے والے انتالیس سالہ سیف الاسلام لیبیا کی حکومت کا اصلاح پسند چہرہ بھی تھے۔
کرنل قذافي کی نو اولادوں میں سے دوسرے نمبر پر آنے والے سیف نے بغاوت کے دوران کئی مرتبہ خطاب کیا جس میں انہوں نے باغیوں کو ’شرابی اور بدمعاش‘ اور ’دہشت گرد‘ تک کہا۔
باغیوں کے طرابلس میں داخل ہونے کے چند گھنٹے پہلے بھی انہوں نے ملک کے سرکاری ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’ہم اپنی زمین پر ، اپنے ملک میں ہیں۔ ہم لڑتے رہیں گے، چھ ماہ تک ، ایک سال تک ، دو سال تک اور ہم جيتیں گے‘۔
بعدازاں باغیوں نے انہیں پکڑنے کا دعوٰی کیا لیکن پھر وہ نعرے لگاتے اپنے حامیوں کے ساتھ طرابلس کے باہر ایک ہوٹل پہنچے جہاں بین الاقوامی صحافی ٹھہرے ہوئے تھے۔
وہاں پھر انہوں نے تقریر کی جس سے لگا کہ وہ اپنی جیت کے بارے میں مطمئن ہیں۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس وقت کیا واقعی ان کو پکڑا گیا تھا اور کیا وہ بھاگ کر باہر آ گئے تھے یا یہ کہ انہیں پکڑنے کا دعوی ہی سچ نہیں تھا۔
سیف اس سے قبل مسلسل یہ کہتے رہے کہ لیبیا میں جمہوریت ضروری ہے اور انہوں نے مغرب کے ساتھ 2000 سے لے کر 2011 تک کی بغاوت کے درمیان مفاہمتی کوششوں میں اہم کردار ادا بھی کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قذافي خاندان کی خیراتی تنظیم کے سربراہ کے طور پر اور مبینہ طور پر اربوں ڈالر کی املاک والے’ليبيائی سرمایہ کاری اتھارٹی‘ کے سربراہ کے طور پر ایک بہت بڑی رقم کا کنٹرول ان کے پاس تھا جس کا استعمال انہوں نے مغرب کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کیا۔
وہ اس بات چیت کا حصہ بھی تھے جس کے بعد ان کے والد نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا پروگرام ترک کر دیا۔
انہوں نے بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے طبی عملے کے ان چھ ارکان کی رہائی میں بھی ثالثی کی جن پر لیبیا کے ایک ہسپتال میں بچوں کو ایچ آئی وی انفیکشن سے متاثر کرنے کا الزام تھا۔
یہی نہیں بلکہ ان کی ثالثی کی صلاحیتیں سنہ 1988 کے لاكربي دھماکے، 1986 کے برلن نائٹ کلب حملے اور 1989 کے يوٹي اے طیارے کی تباہی کے واقعات میں متاثر ہوئے کنبوں کو معاوضہ دلانے کے معاملات میں بھی سامنے آئیں۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سنہ 2009 میں لاكربي دھماکوں کے ایک ملزم عبدالباسط مگراہي کو رہا کیے جانے کے متنازعہ فیصلے سے جڑی بات چیت میں بھی وہ ملوث تھے۔
ان معاہدوں کے بعد جہاں لیبیا پر عائد بین الاقوامی پابندیوں میں کمی آئی وہیں سیاسی اور اقتصادی پلیٹ فارمز پر سیف الاسلام کی اہمیت کی وجہ سے یہ لگنے لگا کہ لیبیا میں تبدیلی کا دور شروع ہو رہا ہے۔
وہ ایک تربیت یافتہ انجینئر ہیں۔ لندن میں ان کا ایک گھر ہے اور ان کا تعلق برطانیہ کی سیاسی شخصیات سے لے کر شاہی خاندان تک رہے ہیں۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سیف نے دو شیر پالے ہوئے تھے اور وہ صحرا میں بازوں کی مدد سے شکار کے شوقین ہیں۔ ساتھ ہی کہا جاتا ہے کہ انہیں پینٹنگ کرنے کا بھی شوق ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سیف نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا کہ وہ اپنے والد کی اقتدار کو وراثت میں لینا چاہتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ زمامِ اقتدار کوئی کھیت نہیں کہ جو وراثت میں مل جائے۔
انہوں نے سیاسی اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا تھا اور یہی ان کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے مقالے کا موضوع بھی تھا جو انہوں نے لندن سکول آف اکنامکس سے حاصل کی تھی۔
لیبیا میں مظاہرین پر تشدد کی خبریں سامنے آنے کے بعد لندن سکول آف اکنامکس کے ڈائریکٹر ہاورڈ ڈیوس نے استعفی دے دیا تھا کیونکہ ان پر سیف الاسلام کی خیراتی تنظیم سے چندہ لینے پر تنقید کی گئی تھی۔
اب یونیورسٹی اس بات کی تحقیقات بھی کر رہی ہے کہ کہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیے سیف کی جانب سے پیش کیا جانے والا مقالہ کہیں سرقہ تو نہیں تھا۔







