مدفون شخص کی لاش مردہ خانے سے برآمد

کرسٹوفر ایلڈر انیس سو اٹھانوے میں پولیس کی حراست میں ہلاک ہوئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنکرسٹوفر ایلڈر انیس سو اٹھانوے میں پولیس کی حراست میں ہلاک ہوئے تھے۔

ایک ایسے برطانوی شہری کی لاش مردہ خانے سے تیرہ سال بعد برآمد ہوئی ہے جس کے بارے یہ خیال تھا کہ اسے آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد دفنا دیا گیا ہے۔

سیاہ نسل سے تعلق رکھنے والے سینتیس سالہ کرسٹوفر ایلڈر سنہ انیس سو اٹھانوے میں پولیس کی حراست کے دوران ہل شہر میں ہلاک ہوگئے تھے اور انہیں مردہ خانے کے ریکارڈ کے مطابق مقامی قبرستان میں دفن کردیا گیا تھا۔

تاہم آنجہانی کی ہمشیرہ کو شک تھا کہ ان کے بھائی کی جگہ کسی خاتون کو دفن کیا گیا ہے۔

تیرہ سال بعد مردہ خانے میں ان کی لاش ملنے کے بعد ان کے اہلِ خانہ کو آگاہ کیا گیا ہے۔ ہل شہر کی انتظامیہ نے اس واقعہ کو افسوسناک قرار دیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی مکمل چھان بین کی جائیں گی۔

ایلڈر کی بہن جینیٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اس وقت مکمل صدمے میں ہوں، میں یقین نہیں کرسکتی کہ یہ سب کچھ کرنے کے بعد ہمارا خاندان جس سب سے گذرا وہ بے کار تھا۔‘

’ یہ سب ناقابلِ قبول ہے، یہ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کوئی زخمی زندگی کی طرف لوٹ رہا ہو اور آپ اُسے مزید زخم لگا دیں۔‘