نائن الیون:’مغرب اور اسلام کے تصادم کی وجہ‘

آزاد امریکی تحقیقاتی ادارے پيو ریسرچ سینٹر نے گیارہ سمتبر دو ہزار ایک کو امریکہ میں ہوئے دہشت گرد حملوں کے تناظر میں ایک سروے کیا ہے جس میں حملوں کے اثرات اور اس سے ہونے والی تبدیلوں کے بارے میں مختلف سوالات کیے گئے۔ سروے سے حاصل ہونے والے بعض نتائج کی تفصیل:

تہذیبوں کا تصادم

پیو سروے میں جب لوگوں سے یہ سوال کیا گیا کہ آیا وہ ستمبر گیارہ کے حملوں کو امریکہ و یورپ اور مسلمانوں کے درمیان بڑے تصادم کی وجہ سمجھتے ہیں تو سنہ 2001 اکتوبر میں محض 28 فیصد اس سے اتفاق کرتے تھے۔ تاہم یہ شرح 2002 میں 35 فیصد، 2006 میں 40 فیصد رہی اور 2011 اگست میں 35 فیصد ہے۔

گیارہ ستمبر کے حملوں کے فوری بعد 63 فیصد عوام کا خیال تھا کہ ان حملوں کے بعد امریکہ و یورپ کی جنگ چھوٹے شدت پسند گروہوں سے ہو گی۔ اور یہ شرح 2011 اگست میں گر کر 57 فیصد ہو گئی۔

خوفناک دن کی یادیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

آج بھی لگ بھگ ہر شخص کو یاد ہے کہ جب اس نے گیارہ ستمبر دو ہزار گیارہ کے حملوں کی خبر سنی تو اس وقت وہ کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے۔ یہ واقعہ بڑی عمر کے امریکیوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی اُسی طرح یاد ہے جو اس وقت صرف آٹھ سے انیس برس کے تھے۔

آٹھ تاریخی واقعات میں سے جان ایف کینیڈی کی ہلاکت کا واقعہ بھی ان لوگوں کو یاد ہے جو انیس سو پچپن سے قبل پیدا ہوئے۔

سروے کے مطابق ستانوے فیصد لوگوں کے ذہنوں میں گیارہ ستمبر کے حملوں کی یادیں پوری طرح روشن ہیں۔ پچانوے فیصد امریکی جو انیس سو چھیاسٹھ میں آٹھ برس یا اس سے زائد عمر کےتھے انہیں آج بھی جان ایف کینڈی کے قتل کے وقت کی صورتحال یاد ہے۔

تازہ واقعات میں سے امریکی صدر براک اوباما کی زبانی اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا اعلان اکاسی فیصد لوگوں کو یاد ہے کہ انہوں نے کہاں اور کیسے سنا۔

سروے کے مطابق گیارہ ستمبر کے حملوں کی واضح یاد امریکیوں کی اس دن کے واقعات سے جڑے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔

اکسٹھ فیصد لوگوں کا کہنا ہےکہ ان دہشت گرد حملوں نے امریکہ میں زندگی کو بڑے پیمانے پر بدل کر رکھ دیا۔ دس فیصد لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ میں زندگی بنیاری طور پر وہی ہے جو حملوں سے قبل تھی جبکہ اٹھائیس فیصد لوگ کہتے ہیں کہ زندگی بدلی ہے مگر تھوڑی بہت۔

جارج بش نے کیسے نمٹا

امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد جو اقدامات کیے ان کے بارے میں عمومی ردِ عمل مثبت ہی رہا۔

گیارہ ستمبر کے بعد 86 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ جارج بش نے صورتحال کے اچھے طریقے سے نمٹا۔ تاہم جنوری 2009 میں یہ شرح گر کر صرف 24 فیصد رہ گئی۔ لیکن اگست 2011 کو کیے گئے سروے میں 56 فیصد افراد کا یہ ماننا تھا کہ جارج بش نے گیارہ ستمبر کی صورتحال پر بخوبی قابو پایا۔

ستمبر دو ہزار ایک میں پچپن فیصد لوگوں نے اس خیال سے اختلاف کیا کہ شاید امریکہ نے دوسرے ممالک کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا جس کی وجہ سے وہاں یہ دہشت گرد حملے ہوئے جبکہ تینتیس فیصد لوگوں نے اس سے اتفاق کیا۔

لیکن آج لوگوں کی رائے تقریباً برابر ہی تقسیم دکھائی دیتی ہے جس کے مطابق تینتالیس فیصد لوگ امریکہ کے غلط اقدامات کو حملوں کی وجہ سمجھتے ہیں جبکہ پینتالیس فیصد ایسا نہیں مانتے۔ تاہم ان دس سالوں میں امریکی برتاؤ کی وجہ سے حملے ہونے کی سوچ میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ میں نوجوانوں کی زیادہ تعداد امریکی اقدامات کو حملوں کی وجہ سمجھتے ہیں۔ اٹھارہ سے انتیس برس کی عمر کے چھپن فیصد نوجوان ایسا سمجھتے ہیں جبکہ تیس سے انچاس برس کے لوگوں کی سینتالیس فیصد لوگوں کی رائے بھی یہی ہے۔

قومی سلامتی، عراق اور افغانستان

،تصویر کا ذریعہAP

امریکہ میں ایک تہائی لوگوں کا ماننا ہے کہ دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے امریکی حکومت جو کچھ کر رہی ہے وہ سب صحیح اور جائز ہے۔

جب پوچھا گیا کہ ستمبر دو ہزار گیارہ جیسا کوئی اور حادثہ کیوں نہیں پیش آیا تو تینتالیس فیصد کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ حکومت کی اچھی کارکردگی ہے جبکہ پینتیس فیصد کے بقول ایسا ہونے کی وجہ حکومت کی دفاعی پالیسیاں نہیں بلکہ صرف اور صرف امریکہ کی خوش قسمتی ہے۔

باقی کے سولہ فیصد نے دیگر حملے نہ ہونے کی وجہ امریکہ کا دہشت گردوں کے لیے ایک مشکل حدف ہونا بتائی۔

عراق میں دہشت گردی کے خلاف لڑے جانے والی جنگ کے متعلق اکتیس فیصد کا کہنا تھا کہ امریکہ کا عراق پر حملہ کرنے سے ملک کی سکیورٹی زیادہ خطرے میں ہے اور سنہ دو ہزار گیارہ جیسے دیگر حملوں کے ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ انتالیس فیصد کے بقول جنگ کرنا یا نہ کرنا ایک بات ہے اور اس سے ملک کی سکیورٹی پر کوئی فرق نہیں پڑا جبکہ صرف چھبیس فیصد کے مطابق جنگ سے دیگر حملوں کے ہونے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔

افغانستان میں لڑے جانے والی جنگ کے متعلق سینتیس فیصد کا سمجھنا ہے کہ جنگ سے دیگر حملوں کے ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں جبکہ پچیس فیصد کے مطابق امکانات پہلے کی نسبت کم ہو گئے ہیں۔

چونتیس فیصد کے خیال میں افغانستان جنگ سے امریکہ کی سکیورٹی کو کوئی فرق نہیں پڑا۔

امریکہ میں انتیس فیصد ریپبلکنز سمجھتے ہیں افغانستان جنگ کے باعث ملک میں دیگر حملے کم ہو جائیں گے جبکہ بیالیس فیصد ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ جنگ سے اور حملوں کے ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

جیسے جیسے ستمبر دو ہزار گیارہ کو ہوئے وقت گزرتا جا رہا ہے ویسے ویسے ان امریکیوں کی تعداد بھی کم ہو رہی ہے جن کے خیال میں ملک میں دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے کسی قسم کے شہری حقوق کو گنوانا ضروری ہے۔

فی الوقت چالیس فیصد کا خیال ہے کہ عام شہریوں کو دہشت گردی کا سامنا کرنے کے لیے اپنے حقوق گنوانے پڑے گیں جبکہ یہ تعداد پانچ سال پہلے تینتالیس فیصد تھی اور دو ہزار گیارہ کے حملوں کے ہونے کے فوراً بعد پچپن فیصد تھی۔

تشدد کے حق میں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

اسی طرح گزشتہ سالوں میں ٹارچر یعنی قیدیوں یا ملزموں کو اذیّت دینے کے متعلق بھی لوگوں کی رائے میں بہت کم تبدیلی سامنے آئی ہے۔ فی الحال تریپن فیصد کا کہنا ہے کہ ضروری انفارمیشن کے لیے ٹارچر جائز ہے جبکہ باقیوں کا کہنا ہے کہ ٹارچر کا کوئی جواز نہیں ہے۔

سنہ 2004 میں 43 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ تشدد کے ذریعے اہم معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں اس لیے اس کی اجازت ہونی چاہیے۔ یہ شرح 2006 میں بڑھ کر 46 فیصد ہوئی۔ سنہ 2009 میں یہ شرح سب سے زیادہ تھی۔ 54 فیصد افراد تشدد کے حق میں تھے۔

دو تہائی امریکیوں یعنی سرسٹھ فیصد کے بقول بڑھتی ہوئی اسلامی شدت پسندی سے انھیں خدشہ ہے جن میں سے آدھوں کے خیال میں یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔

واضح رہے کہ اسلامی شدت پسندی کا امریکہ کے شہریوں میں خدشہ پہلے کی نسبت کم ہو گیا ہے۔ اپریل دو ہزار سات میں اٹھتّر فیصد امریکیوں کو شدت پسندی کا خدشہ تھا۔

پچپن فیصد ریپبلکنز کے مطابق امریکہ میں اسلامی شدت پسندوس کو حمایت حاصل ہے جبکہ دوسری سیاسی جماعت ڈیموکرریٹس میں تیتیس فیصد کا یہ خیال ہے۔

نسلوں کے اختلاف

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

امریکہ میں بڑی عمر کے لوگوں کی نسبت تیس برس سے کم عمر کے نوجوانوں کا کہنا کہ انہیں گیارہ سمتبر کے حملوں نے انہیں جذباتی طور پر بہت کم متاثر کیا ہے۔

سروے کے مطابق گیارہ سمتبر کے حملوں کے بعد اسلام اور مسلمانوں سے متعلق رویوں میں بھی عمروں کے فرق واضح دکھائی دیا۔

نوجوانوں کی نسبت پینسٹھ برس اور اس سے زائد عمر کے ان لوگوں کی تعداد دوگنی تھی جن میں امریکہ میں اسلامی شدت پسندی کے حوالے سے خدشات پائے گئے۔

اس کے برعکس بڑوں کی نسبت ان نوجوانوں کی تعداد دو گنا تھی جو یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے کڑی نگرانی اور حراست کی وجہ سے مسلمان کٹ کر رہ جائیں گے۔

امریکہ میں نوجوان ہوائی اڈوں پر مشرقِ وسطیٰ کے علاقوں سے آنے والے لوگوں کی اضافی چیکنگ کے حق میں بھی نہیں ہیں۔

امریکی نوجوانوں کو افغانستان میں جاری جنگ کے حوالے سے یہ خدشہ بھی ہے کہ یہ امریکہ میں کسی اور دہشت گرد حملے کا باعث بن سکتی ہے۔

سروے کے مطابق تیس سال سے کم اور انچاس برس تک کے لوگوں کے نسبت بڑے عمر کے ان لوگوں کی تعداد بھی کافی کم تھی جو یہ سمجھتے ہیں کہ نائن الیون سے قبل کچھ ایسے کام کیے تھے جو ان حملوں کا سبب بنے۔