’اسامہ آپریشن کے راز فلمسازوں کے پاس‘

امریکہ میں حزبِ اختلاف کے ایک سینئر رہنماء نے ایسی اطلاعات پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جن کے مطابق ہالی وڈ کے فلمسازوں کو وائٹ ہاؤس سے اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کی کارروائی کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
ایوانِ نمائندگان کی ہوم لینڈ سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ پیٹر کِنگ نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ فلم بننے سے صدر براک اوباما کو انتخابات میں فائدہ حاصل ہوگا۔
نیویارک ٹائمز کی مصنف مورین داؤد کا کہنا ہے ’فلمسازوں کو اعلٰی سطح تک رسائی حاصل ہے۔‘
وائٹ ہاؤس نے رپورٹ اور پیٹر کنگ کے دعوے کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا ہے۔
سنہ دو ہزار ایک کے آخر میں افغانستان سے فرار ہونے کے بعد اسامہ بن لادن کم و بیش دس سال تک روپوش رہے تاہم انہیں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکہ کے خصوصی فوجی دستے کی چھاپہ مار کارروائی کے دوران گزشہ مئی میں ہلاک کیا گیا۔
9/11 کی دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث اسامہ بن لادن کی ہلاکت نے براک اوباما کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے۔
تاہم انہیں اندرونی طور پر بیروزگاری اور معیشت میں غیریقینی صورتحال کا سامنا ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی بھی جاری ہے اور یہ سب وہ وجوہات ہیں جن کے باعث ان کی ریٹنگ، ان کے دور میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے باوجود کم ہورہی ہے۔
بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکی فوجی حکام نے کہا تھا کہ خفیہ آپریشن کی تفصیلات عیاں کرنے سے مستقبل میں ایسے آپریشن پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چھ اگست کو نیویارک ٹائمز کی کالم نگار مورین داؤد نے لکھا تھا کہ سونی پکچرز نے بن لادن کے بارے میں فلم بنانا شروع کردی ہے۔ آسکر ایوار یافتہ ہرٹ لاکر کے ڈائریکٹر اور مصنف کیتھرین بگلو اور مارک بول بن لادن کے بارے میں فلم پر کام کررہے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ ’ان افراد کو تاریخی مشن کے بارے میں خفیہ معلومات تک رسائی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فلم صدر کے فیصلے کی عکاسی کرے گی۔‘
مورین داؤد کا کہنا ہے کہ یہ فلم اکتوبر سنہ دو ہزار بارہ تک نمائش کے لیے پیش کردی جائے گی اور یہ وہ بہترین وقت ہوگا جب انتخابی مہم کو سہارا درکار ہوگا۔
پیٹر کنگ نے سی آئی اے اور محکمۂ دفاع کے ڈائریکٹر جنرل کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے اِن افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحقیقات کریں کہ ہالی وڈ کے افراد کی وائٹ ہاؤس، سی آئی اے اور محکمۂ دفاع تک بن لادن کے معاملے کی خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لیے کس حد تک رسائی ہے۔
انہوں نے وضاحت طلب کی ہے کہ کیا یہ فلم تیار ہونے کے بعد منظوری کے لیے دکھائی جائے گی اور کیا اوباما انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کسی بھی قسم کے راز اور اس آپریشن سے وابستہ دیگر اہم معاملات کو افشاء نہیں کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انہوں نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ اوباما انتظامیہ کو چاہیے کہ پہلے وہ یہ معلومات کانگریش کو مہیّا کریں تاکہ عوام کا اعتماد حاصل کیا جاسکے اور حکومت کی اس معاملے میں شفافیت بھی برقرار رہے۔
تاہم بدھ کو وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے فلمسازوں تک خفیہ معلومات پہنچانے کے معاملے کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کا پریس آفس اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ خبر، ڈاکومینٹری، فلم، ہالی وڈ پروڈکشن اور صدر کے بارے میں دیگر مضامین درست اور سیاق و سباق کے مطابق ہوں اور فلسماز جو افسران کا انٹرویو کرنا چاہتے ہیں انہیں بھی رسائی دی جاتی ہے۔
تاہم انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ’ہم (ان سے) خفیہ معلومات کے بارے میں بات نہیں کرتے۔‘
’اور میں امید کرتا ہوں کہ جس طرح کے دہشت گردی کے خطرات کا ہمیں سامنا ہے اس تناظر میں ہوم لینڈ سکیورٹی کی ہاؤس کمیٹی ایک فلم کے بجائے دیگر اہم معاملات کو زیرِ بحث لائے گی۔‘







