ابو غریب کیس: سرغنہ چھ سال بعد رہا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

عراق میں امریکی قید خانے ابو غریب میں زیرِ حراست افراد پر تشدد کرنے اور تصاویر بنانے والے امریکی محافظوں کے سرغنہ کو جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

امریکی فوج کے ترجمان کے مطابق چالس گرینر کو دس سال قید سنائی گئی تھی اور ان کو ساڑھے چھ سال کی قید مکمل کرنے پر رہا کردیا گیا ہے۔

گرینر کو ابو غریب قید خانے میں عراقی قیدیوں کی جنسی تذلیل کرنے اور چھ امریکی محافظور کے سرغنہ ہونے کے الزام میں دس سال قید سنائی گئی تھی۔

<link type="page"><caption> ابو غریب میں قیدیوں پر مظالم: ویڈیو</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/story/2006/02/060215_abughuraib_rs.shtml" platform="highweb"/></link>

یاد رہے کہ گرینر اور دیگر محافظوں کی کھینچی گئی تثاویر سنہ دو ہزار چار میں منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکہ پر عالمی دباؤ بڑھ گیا تھا۔

گرینر کا موقف تھا کہ وہ قیدیوں کی جنسی تذلیل کر کے ان کو ذہنی طور پر کمزور کرنا چاہتا تھا تاکہ تفتیش میں آسانی ہو سکے۔

گرینر کے ساتھ ان کی منگیتر لنڈی انگلینڈ جو اسی قید خانے میں محافظ بھی تھیں کو تین سال قید ہوئی تھی جو وہ پوری کر چکی ہیں۔

امریکی فوجی ترجمان ربیکا سٹیڈ کا کہنا ہے کہ گرینر کو کنسس کے فورٹ لیون ورتھ سے رہا کردیا گیا ہے تاہم وہ 2014 تک پروبیشن افسر کی نگرانی میں رہیں گے۔

گرینر اور چھ دیگر محافظوں کو دو ہزار چار میں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔

گرینر اور دیگر محافظوں نے قیدیوں کی جنسی تذلیل کی تصاویر اتاری تھیں اور ان تصاویر میں صاف ظاہر تھا کہ یہ محافظ اس حرکت پر مسرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

دیگر محافظوں کے مقابلے میں گرینر کو سب سے زیادہ سزا سنائی گئی تھی کیونکہ وہ ان محافظوں کے سرغنہ تھے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی عراقی خاتون کا کہنا ہے کہ گرینر کی رہائی پر عراق میں شدید ردِعمل ہو گا۔