ناروے حملوں کی تیاری کا احوال

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
’دو ہزار تراسی: یورپ کا اعلانِ آزادی‘ کے نام سے حال ہی میں انٹر نیٹ پر شائع ہونے والی ایک تحریر کو آندرے بیرنگ بریوک سے منسوب کیا جا رہا ہے جنہوں نے اعتراف کیا ہے کہ جمعے کے روز ناروے میں ہونے والے دو دہشت گرد حملے انہوں نے کیے ہیں۔
اس تحریر سے بظاہر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ لکھنے والے کو ذاتی طور پر تئیس جولائی کے حملوں کے لیے تیاری کے مختلف مراحل میں کس طرح کے تجربات کا سامنا ہوا۔
درجنوں صفحات میں مصنف نے بہت خوش مزاجی اور احتیاط سے وہ تمام تفصیلات لکھی ہیں جن کے مطابق اس نے کس طرح طریقہء واردات سوچا، اپنی صحت کو بہتر بنایا اور حسبِ ضرورت اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد اکٹھا کیا۔
اس نے اپنے ارادے پر عمل پیرا ہونے کے لیے ذہنی تیاری کے مختلف پہلوؤں کی بھی خاکہ کشی کی۔
<link type="page"><caption> فعل وحشیانہ مگر ضروری تھا: وکیلِ صفائی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/07/110724_norway_suspect_admits_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
اس منشور نما تحریر آغاز اپریل / مئی 2002 کی ایک انٹری سے ہوتا ہے جس میں مصنف کا دعوٰی ہے کہ اسے ’یورپ کے نائٹ ٹیمپلرز کا آٹھواں نائٹ‘ بنایا گیا ہے اور نائٹ ٹیمپلر وہ مزاحمتی تحریک ہے جو بقول اس کے یورپ میں اسلامائزیشن کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
’میں نے تنظیم کے ایک سربین کمانڈر سے ملاقات کے بعد اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہمارا بنیادی مقصد نائٹ ٹیمپلرز کو آنے والے چند عشروں میں مغربی یورپ کی سب سے اہم قدامت پسند انقلابی تحریک بنانا ہے۔‘
دو ہزار دو سے دو ہزار چھ کے دوران لکھی گئی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ لکھاری نے اپنے اس مشن کے لیے پیسے اکٹھے کیے۔ دو ہزار چھ سے دو ہزار آٹھ کے دوران اس نے اپنا زیادہ وقت تحقیق کرنے اور یہ اشتہار لکھنے میں صرف کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دو ہزار نو کے موسمِ خزاں تک مصنف ایک نئے مرحلے کی تیاری کا دعوی کرتا ہے۔
’ میں تجارتی مقاصد کے لیے دو مختلف اور پیشہ وارانہ کتابچے تیار کر رہا ہوں، ایک کان کنی کی کمپنی ہوگی اور دوسرا ایک چھوٹا سا فارم۔‘
’ اس فیصلے کا مقصد پکڑے جانے کی صورت میں ایک قابلِ اعتبار ڈھال بنانا ہے تاکہ دھماکہ خیز مواد یا دھماکے کے لئے استعمال ہونے والے مواد کی خریداری یا سملنگ کے لیے ایک جواز موجود ہو۔ اسی لیے میں نے ایک نئی کمپنی بنائی ہے جس کا نام جیوفارم ہے اور یہ ایسے کاموں کے لیے ایک قابلِ بھروسہ ڈھال کا کام کرے گا۔‘
’جیوفارم‘ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ آندرے بیرنگ بریوک کی ملکیت ہے۔
جولائی دو ہزار دس میں مصنف نے لکھا کہ وہ بلٹ پروف جیکٹ حاصل کرنے اور جنگل میں ایک صندوق کے اندر اسلحہ چھپانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
مصنف لکھتا ہے کہ یہ آسان کام نہیں تھا۔ اس دوران اسے مکڑوں اور مچھروں نے پریشان کیا۔ (مصنف نے اسے انتہائی سنجیدہ مسئلہ قرار دیا ہے) مصنف کے مطابق اسے گڑھا کھودتے ہوئے زمین میں موجود چٹانوں کے باعث کافی دقت ہوئی اور اسی وجہ سے اس کام میں پانچ گھنٹے صرف ہوئے۔
ستمبر دو ہزار دس میں مصنف کہتا ہے ’میں نے قانونی طور پر ایک نیم خود کار رائفل اور گلاک ( پسٹل) حاصل کر لیا ہے‘۔
’ میرا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اس لیے پولیس کے پاس کوئی جواز نہیں ہے کہ وہ لائسنس کے لیے میری درخواست رد کرے‘۔
اکتوبر، نومبر دو ہزار دس میں وہ لکھتا ہے ’میں نے آن لائن سپلائر کو ایک ضروری کیمیکل کا آرڈر دے دیا ہے۔ مجھے مکمل طور پر تیاری سے قبل ابھی چار یا پانچ مزید چیزوں کا آن لائن آرڈر دینا ہے۔‘
’ یہ کہنا غیر اہم ہے کہ یہ ایک انتہائی کمزور مرحلہ ہے۔ درحقیقت سب سے کمزور مرحلہ ہے۔ اگر میں اس مرحلے سے بنا کسی مشکل کے گزر جاتا ہوں تو میں اپنی کارروائی کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب ہو جاؤں گا۔‘
’ مجھے تھوڑی تشویش ہے لیکن کسی بھی پیچیدگی کی صورت میں میرے پاس ہر کیمیکل (سوائے ایک کیمیکل کے) کا انفرادی طور پر جواز موجود ہے۔‘
اس اشتہار میں بار بار راز کے فاش ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
مصنف مزید لکھتا ہے ’تو جب میں کوئی کام نہیں کررہا ہوتا تو اسوقت میں کیا کرتاہوں؟ میں اس وقت پٹھوں کو مضبوط بنا رہا ہوں، سخت تربیت حاصل کر رہا ہوں تاکہ جولائی میں اپنے بانوے کلو وزن کے ریکارڈ کو بہتر بنا سکوں۔ میرا جسم اس وقت کم و بیش بہترین ہے اور میں ہمیشہ کی طرح بہت خوش ہوں‘۔
’ میرا حوصلہ ہمیشہ سے بلند ہے اور جس طرح چیزیں ہو رہی ہیں میں خوش ہوں۔ میں شاید اس موسم سرما میں کے نائٹ ٹیمپلر کے تصورات پر مبنی یو ٹیوب کی ایک فلم بناؤں گا۔‘
نائٹس ٹیمپلر دو ہزار تراسی کے عنوان سے یوٹیوب پر پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو کو آندرے بیرنگ بریوک سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
آگے چل کر مصنف لکھتا ہے کہ’جہاں تک گرل فرینڈ کا تعلق ہے تو میں وقتی تعلق کا قائل ہوں۔ میں کسی بھی تعلق سے گریز کر رہا ہوں کیونکہ یہ میرے مشن کو پیچیدہ بنا سکتا ہے اور شاید اسے خطرے میں بھی ڈال سکتا ہے‘۔
نومبر دسمبر اور جنوری میں منصف نے لکھا کہ وہ اسلحے کی خرید کے بعد پستول چلانے کے لیے حکومت کی جانب سے ضروری قرار دی گئی تربیت لے رہا ہے۔
’شہادت‘
اختتام کے قریب ’ سماجی زندگی اور مسلسل پوشیدگی‘ کے عنوان سے ایک باب مصنف لکھتا ہے ’ میں نے Chateau Kirwan 1979 ( ایک فرانسیسی شراب) کی تین بوتلیں ذخیرہ کی ہوئی جنہیں میں نے دس سال پہلے ایک نیلامی میں خریدہ تھا تاکہ ان سے کسی خاص موقع پر لطف حاصل کروں گا۔‘
وہ مزید لکھتا ہے ’اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہ میری فدائی کارروائی قریب آ رہی ہے، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ان میں سے ایک بوتل کو نکال کر اپنے خاندان کے ساتھ کرسمس پارٹی پر لطف اندوز ہوں گا۔‘
’میرا ارادہ تھا کہ میں اپنی آخری بوتل اپنے آخری فدائی کارروائی کے لیے محفوظ رکھوں گا اور اس سے ان دو اعلیٰ درجے کی ماڈل نما جسم فروش خواتین کے ساتھ لطف اندوز ہوں گا جن کی خدمات میں حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
اس کے بعد دو اپنی روزانہ کی کارروائیوں کی تفصیل درج کرتا ہے جن میں اپنے مشن کے لیے کی جانے والی تیاری بھی شامل ہے۔
آخری انٹری اسی سال بائیس جولائی کی سہ پہر ہے جس میں آندرے بیرنگ بریوک نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ اس کی آخری انٹری ہوگی۔







