پاکستان قابل اعتبار ساتھی ہے: امریکی جنرل

افغانستان میں اتحادی افواج کے سابق سربراہ امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریئس اور امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے نئے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کو القاعدہ کے خلاف جنگ میں قابل اعتبار ساتھی سمجھتے ہیں۔
افغانستان میں اپنا عہدے چھوڑنے کے بعد امریکہ جاتے ہوئے بدھ کے روز انہوں نے پیرس میں قیام کے دوران اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں وہ (پاکستان) القاعدہ اور پاکستانی طالبان کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘
جنرل پیٹریئس نے یہ بھی کہا کہ ’یہ بات قابل اعتبار ہے کہ انہیں نہیں معلوم تھا‘ کہ اوسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں ایک گھر میں روپوش ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے شدت پسندوں کے خلاف زبردست کارروائیاں کی ہیں لیکن انہیں کچھ مزید عناصر سے نمٹنے کے لیے یقیناً مزید کارروائیاں کرنی پڑیں گی جن میں شمالی وزیرستان میں القاعدہ کے نیٹ ورک اور بلوچستان میں طالبان شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ روابط کو ’مشکل‘ قرار دیا لیکن پاکستانی طالبان کے خلاف اس کو کوششوں کو سراہا۔
’ان کی کارروائی کرنے کی بھی ایک حد ہے۔ انہوں نے کئی علاقوں میں کارروائیاں شروع کی ہوئی ہیں اور ان کو پہلے ان علاقوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنی ہو گی۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جنرل پیٹریئس نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کتنے بھی دشوار کیوں نہ ہوں ان کے ساتھ کام مل کر کام کرنا ضروری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا ہو گا کہ پاکستان نے اس جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں جن میں فوجی اور پولیس کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بھی جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔‘
افغانستان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں دہشت گردوں کے حملوں میں کمی آئی ہے۔
’ہمارے پاس معلومات ہیں کہ طالبان یہ جانتے ہیں موسمِ گرما کی کارروائیوں ناکام ہو گئی ہیں۔‘







