آسٹریا، ہٹلر کی اعزازی شہریت پر تنازعہ

آسٹریا کے کئی شہر آج کل اپنے آرکائیو اس بات کا پتہ لگانے کے لیے چیک کر رہے ہیں کہ ایڈلف ہٹلر کو جو اعزازی شہریت دی گئی تھی کہیں وہ اب بھی برقرار تو نہیں ہے۔
یہ کارروائی امیسٹیٹین شہر کے اس اعلان کے بعد شروع کی گئي ہے کہ تقریبا وہ ساٹھ برس بعد پہلے ہٹلر کو عطا کی گئي اعزازی شہریت کو ختم کر رہا ہے۔
ہٹلر نے سنہ انیس اڑتیس میں امیسٹیٹین شہر کا دورہ کیا تھا اور اس کے بعد ہی انہیں اعزازي شہریت دی گئي تھی۔
گرین پارٹی نے ان کی اعزازی شہریت کے خاتمے کی پیش کش کی تھی جسے شہر کی کونسل نے اکثریت سے منظور کر لیا ہے۔
لیکن انتہائی دائیں بازو کے خیالات والی فریڈم پارٹی کے دو ارکان نے اس میں ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور کارروائی سے غیر حاضر رہے۔
ان کی دلیل یہ تھی کہ اس طرح کا قدم اس لیے غیر ضروری تھا کیونکہ سنہ انیس سو پینتالیس میں ہٹلر کی موت کے ساتھ ہی ان کی اعزازی شہریت کا معاملہ ختم ہوگیا تھا۔
اس واقعے کے بعد ہی ایک بار پھر ملک میں نازی دور کی یادیں تازہ ہوگئي ہیں اور اس کے ساتھ ہی سیاست دان اور تاریخ داں اس حوالے سے پرانے ریکارڈ چیک کرنے میں لگ گئے ہیں۔
جنوبی شہر کلیگین فرٹ کے میئر نے کرسیٹین شیدیئر نے تو اس معاملے پر بغیر کسی مباحثے کے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے لسٹ سے نام خارج کرنے کے احکامات دیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ وہ شہر کو نازی ازم کے ماضی کے جرائم سے علیحدگي اختیار کرنے کے لیے ایسا کیا ہے۔
انہوں نے کہا ’اگر ایسا پایا گيا کہ کسی نے بھی ایڈلف ہٹلر کو کلیگین فرٹ کی شہریت دی، ابھی تک ہمارے سامنے ایک مفروضہ کہ ایسا ہوسکتا ہے، تو پھر وہ سرکاری سطح پر منسوخ اور بغیر اجازت کے ہے۔‘
آسٹرییا کے بعض دوسرے شہروں نے بھی یہ بحث جاری ہے کہ ایڈلف ہٹلر یا دوسری نازی رہنماؤں کو جو اعزازی شہریت دی گئی تھی وہ ختم ہوچکی ہے یا نہیں۔







