جاپان میں 7.1 شدت کا ایک اور زلزلہ

،تصویر کا ذریعہOther
جاپان میں زلزلے اور سونامی آنے کے ایک ماہ مکمل پر ہونے پر جاپان کے شمال مشرقی حصے میں پیر کو سات اعشاریہ ایک کا زلزلہ آیا ہے۔
یہ زلزلہ اس علاقے میں آیا ہے جہاں فوکوشیما ایٹمی پلانٹ واقع ہے۔
اس زلزلے کے بعد فوکوشیما ایٹمی گھر پر کام کرنے والے افراد کا فوری طور پر انخلاء کرا لیا گیا ہے اور تھوڑی دیر کے لیے سونامی کی وارننگ بھی جاری کی گئی تھی۔
پیر کو آئے زلزلے کا مرکز اسی فالٹ لائن پر تھا جس پر فوکوشیما پلانٹ واقع ہے۔ اور اس زلزلے کی گہرائی دس کلومیٹر تھی۔
واضح رہے کہ گیارہ مارچ کو زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں فوکوشیما سے تابکاری والے پانی کا اخراج شروع ہو گیا تھا اور اس کو روکنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔
تازہ زلزلہ اس وقت آیا جب لوگ گیارہ مارچ کو آئے زلزلہ اور سونامی کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کر کے ہٹے تھے۔
جاپان کے ایٹمی ری ایکٹر سے تابکاری والے پانی کا بحرالکاہل میں اخراج شروع ہو گیا تھا جس کو انتھک کوششوں کے بعد روک دیا گیا تھا۔
تابکاری والا پانی رِس رہا تھا وہاں شگاف کو بند کرنے کے لیے اس جگہ کیمیائی مواد کو اِنجیکٹ کر دیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جاپان پہلے ہی کہہ چکے ہے کہ متاثرہ جوہری ری ایکٹروں کو لوہے کی شیٹوں سے ڈھانپنے کا کام ستمبر سے قبل شروع نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کے مطابق ری ایکٹروں سے خارج ہونے والی اونچے درجے کی تابکاری کے باعث کام ابھی شروع نہیں کیا جا سکتا۔
جاپان میں زلزلے اور سونامی میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بارہ ہزار افراد ہلاک ہوئے، پندرہ ہزار ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ڈیڑھ لاکھ کے قریب لوگ امدادی کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔
ٹیپکو کے مطابق ری ایکٹر نمبر دو کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جو پانی استعمال کیا گیا تھا اس کے ٹیسٹ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس پانی میں قانونی حد سے پانچ ملین گنا زیادہ تابکاری ہے۔
ری ایکٹروں سے بہنے والے پانی کو روکنے کے لیے انجینیئروں نے اخبارات اور لکڑی کے بھورے کا بھی استعمال کیا۔







